5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار نے کیا مظالم کیے؟

5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار نے کیا مظالم کیے؟

کئی مہینوں تک کاروبار، تعلیمی ادارے اور روزمرہ زندگی شدید متاثر رہی
5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار نے کیا مظالم کیے؟

ویب ڈیسک

|

4 Aug 2026

5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے آئین کی دفعہ 370 اور 35 اے کو ختم کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی جس کو کشمیریوں نے تسلیم نہیں کیا جبکہ پاکستان نے اسے یوم استحصال قرار دیا ہے۔

بھارتی حکومت کے اس جبری فیصلے کے بعد ریاست کو دو وفاقی اکائیوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کر دیا گیا۔

اس فیصلے کے فوراً بعد وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر سیکیورٹی اقدامات کیے گئے۔ ہزاروں اضافی فوجی تعینات کیے گئے، مواصلاتی نظام معطل کر دیا گیا، انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس کئی ماہ تک متاثر رہی جبکہ سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور شہریوں کو مختلف قوانین کے تحت حراست میں لیا گیا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس عرصے میں اظہارِ رائے، نقل و حرکت اور سیاسی سرگرمیوں پر نمایاں پابندیاں عائد رہیں۔

متعدد رپورٹس میں بتایا گیا کہ کئی مہینوں تک کاروبار، تعلیمی ادارے اور روزمرہ زندگی شدید متاثر رہی۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی تنظیموں نے بارہا اس صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے شہری آزادیوں کی بحالی پر زور دیا، جبکہ بھارتی حکومت کا مؤقف رہا کہ یہ اقدامات امن و امان اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضروری تھے۔

آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے پر مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے احتجاج پر بھارتی فوج نے گولیاں برسائیں جس میں متعدد کشمیری نوجوان اور افراد شہید ہوئے۔ علاوہ ازیں درجنوں کو حراست میں لیا گیا۔

آج بھی کشمیری پانچ اگست کو مودی سرکار کے اس ظالمانہ اقدام کے خلاف احتجاج کرتے اور اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ آج بھی وہ بھارتی سرکار کے اس جبری فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!