کئی مہینوں تک کاروبار، تعلیمی ادارے اور روزمرہ زندگی شدید متاثر رہی
شہادت کے بعد یہ بات واضح ہوگئی کہ انہوں نے ایران میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا
حکومتی شخصیات کی جانب سے مختلف مواقع پر دی گئی وضاحتوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا
سندھ کے صوبائی وزیر نے ایئرپورٹ پر سہیل آفریدی کو اجرک، ٹوپی اور ہار پہنایا تھا