14 hours ago
پیپلزپارٹی نے وزیراعلی خیبرپختونخوا کا استقبال کیوں کیا؟ ممکنہ وجوہات
ویب ڈیسک
|
10 Jan 2026
پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیر اعلی خیبر پختون خواہ سہیل افریدی کا استقبال کر کے ایک نئی تاریخ اور روایت قائم کی تاہم اسی کے ساتھ متعدد لوگ ششدر بھی رہ گئے۔
سہیل خان افریدی گزشتہ روز جب کراچی دور کی مناسبت سے ایئرپورٹ پہنچے تو وہاں ان کا استقبال صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کیا انہوں نے وزیراعلی کو سندھی اجرک اور ٹوپی پہنانے کے ساتھ ہر پہنا کر گلے لگایا اور دورے کے حوالے سے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے وزیراعلی کو ویلکم کرنے اور پروٹوکول دینے کے معاملے پر سیاسی تجزیہ نگاروں اور کارکنوں کے درمیان مختلف آرا پائی جاتی ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کر کے مسلم لیگ نون کو ایک واضح پیغام دیا ہے۔
کچھ ہلکے یہ بھی کہتے ہیں نظر آرہے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی سیاسی بساط کے مطابق چال چل کے مقتدر حل کو اور حکومت کو یہ پیغام دیا ہے کہ ائندہ کی حکومت سازی پیپلز پارٹی ہی کرے گی۔
اس سلسلے میں جب پاکستان پیپلز پارٹی سے ڈائیلاگ پاکستان نے رابطہ کیا تو ان کے ایک عہدے دار نے یہ بتایا کہ ہم نے سیاسی رواداری کو برقرار رکھنے اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کرنے کے لیے وزیراعلی خیبر پختون خان کو پروٹوکول دیا ہے۔
خیبر پختون خواہ حکومت کے ترجمان شفیع جان نے بتایا کہ صوبائی وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ ان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے قوانین پر عمل درامد کی یقین دہانی کرائی ہے اور سندھ حکومت نے بھی ہمیں اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
گزشتہ روز بیڈ دی پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کراچی پریس کلب میں ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے وقت وزیراعلی کا کہنا تھا کہ ان کا مراد علی شاہ سے رابطہ ہوا ہے اور وہ اس دور کے دورہ وزیراعلی سے ملاقات کر کے کراچی میں مقیم پختونوں کے مسائل سے بھی آگاہ کریں گے۔
وزیراعلی خیبر پختون خواں نے یہ بھی کہا کہ ان کے ساتھ پنجاب کے دورے کے موقع پر جو ہوا اسے وہ کبھی نہیں بھول سکتے البتہ سندھ حکومت نے ان کے ساتھ جو تعاون کیا یہاں پر جمہوری اور بے نظیر کی حکومت نظر آتی ہے۔
سوشل میڈیا پر پرو پاکستان ایکٹیوسٹ صارفین کا اس حوالے سے تنقیدی نقطہ نظر سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ وزارت اعلی کا منصب سنبھالنے کے بعد ریاستی سطح پر اور اہم ریاستی عہدے دار سہیل افریدی کے حوالے سے ایک واضح رائے رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ وہ خیبر پختون خواہ کے سوری زدہ علاقوں میں مسلح جدوجہد کرنے والے خوارج یا کل عدم تحریک طالبان پاکستان کے حامی ہیں۔
سہیل افریدی نے گزشتہ روز بھی اپنے اوپر عائد ہونے والے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف صرف کل عدم تحریک طالبان نہیں بلکہ تمام دہشت گرد تنظیموں کی دو ٹوک مخالفت کرتی ائی ہے۔
انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہم ان دہشت گردوں کو واپس لانے اور آباد کرنے والوں کے بھی خلاف ہے مسلح افراد کو واپس لانے کا اقدام شہریوں کی زندگی کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے جس کے نتائج سب بھگت رہے ہیں اور اس کا خمیازہ براہ راست عوام کو بھگتنا پڑے گا۔
اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹس میں بتائیں۔۔
Comments
0 comment