پنجاب حکومت نے طیارہ کس مقصد کیلیے خریدا؟
ویب ڈیسک
|
23 Feb 2026
پاکستان میں پنجاب حکومت کی جانب سے ایک مہنگے اور جدید طیارے کی خریداری نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ یہ طیارہ آخر کس مقصد کے لیے حاصل کیا گیا ہے؟ کیا یہ وزیراعلیٰ پنجاب کے سرکاری استعمال کے لیے ہے یا مجوزہ "ایئر پنجاب" منصوبے کا حصہ ہے؟
متضاد بیانات نے بحث کو مزید بڑھا دیا
اس معاملے پر حکومتی شخصیات کی جانب سے مختلف مواقع پر دی گئی وضاحتوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ پنجاب کی وزیر اطلاعات اعظمیٰ بخاری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ طیارے کی خریداری دراصل "ایئر پنجاب" منصوبے سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت اپنی ایئر لائن بنانے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے لیے جہاز خریدنے اور لیز پر لینے کا عمل جاری ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ یہ طیارہ صوبہ پنجاب کی ملکیت ہوگا اور اسے وزیراعلیٰ کی ذاتی ملکیت قرار دینا درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں صوبائی اور وفاقی حکومتیں اپنے سرکاری امور کے لیے طیارے رکھتی ہیں۔
کون سا طیارہ خریدا گیا؟
میڈیا رپورٹس اور سرکاری ذرائع کے مطابق یہ طیارہ غالب امکان ہے کہ گلف سٹریم ایئرو سپیس کا تیار کردہ G500 بزنس جیٹ ہے، جو جدید ترین طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ماڈل عام طور پر سربراہان مملکت، اعلیٰ حکومتی شخصیات اور بڑے کاروباری افراد استعمال کرتے ہیں۔
یہ طیارہ بیک وقت تقریباً 13 افراد کو لے جا سکتا ہے اور لمبے فاصلے بغیر رکے طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے اندر آرام دہ نشستیں، میٹنگ اور آرام کی سہولیات بھی موجود ہوتی ہیں۔
رجسٹریشن اور آپریشن سے متعلق اہم تفصیلات
ذرائع کے مطابق یہ طیارہ ابھی تک پاکستان میں رجسٹر نہیں ہوا اور اس کا رجسٹریشن نمبر امریکہ سے منسلک ہے۔ گزشتہ برس کے آخر میں یہ پہلی مرتبہ لاہور پہنچا اور حالیہ ہفتوں میں اس نے بعض مقامی پروازیں بھی کیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بزنس جیٹ عام طور پر کمرشل پروازوں کے لیے استعمال نہیں ہوتے بلکہ یہ زیادہ تر سرکاری یا نجی اہم شخصیات کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔
"ایئر پنجاب" منصوبہ کہاں تک پہنچا؟
پنجاب حکومت کی جانب سے "ایئر پنجاب" کے قیام کا عندیہ دیا گیا ہے، تاہم اس منصوبے کی تفصیلات، ٹائم لائن اور عملی پیش رفت کے بارے میں ابھی تک واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ حکام کے مطابق ایئر لائن کے لیے مختلف طیارے حاصل کیے جائیں گے، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ موجودہ طیارہ اسی منصوبے کا حصہ ہے یا الگ مقصد کے لیے لیا گیا ہے۔
سوال اب بھی برقرار
اس سارے معاملے میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ آیا یہ طیارہ واقعی مجوزہ ایئر لائن کے لیے ہے یا صرف سرکاری سفری ضروریات کے لیے حاصل کیا گیا ہے۔ واضح اور تفصیلی سرکاری موقف سامنے آنے تک یہ بحث جاری رہنے کا امکان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بڑے فیصلوں میں شفافیت ضروری ہوتی ہے تاکہ عوام کو اعتماد میں لیا جا سکے اور قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو سکے۔
Comments
0 comment