سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، والدہ اور بہنوں کو 71 سال وراثتی جائیداد کا حصہ مل گیا

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، والدہ اور بہنوں کو 71 سال وراثتی جائیداد کا حصہ مل گیا

سپریم کورٹ نے 13 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا
سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، والدہ اور بہنوں کو 71 سال وراثتی جائیداد کا حصہ مل گیا

ویب ڈیسک

|

1 Jul 2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے وراثتی جائیداد کے حوالے سے دائر کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے 71 سال بعد والدہ اور بہنوں کو جائیداد میں حصہ دینے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیا اور فیصلے کیا کہ خواتین کے وراثتی حقوق کا تحفظ صرف ریاست کی ذمہ داری نہیں، سول سوسائٹی، علما، ریونیو حکام اور قانونی ماہرین ان حقوق سے انحراف کو روکیں۔

جسٹس شاہد بلال حسن نے 13 صفحات پر مشتمل فیصلے میں لکھا کہ خواتین کو محروم کرنے کے لیے فراڈ اور خاندانی دباؤ ہر گز قبول نہیں ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خواتین کے وراثتی حقوق کے معاملات پر عدلیہ کو ہر وقت چوکس رہنا چاہیے۔

فیصلے کے مطابق 1955 میں والد کے انتقال کے بعد 2 بھائیوں نے وراثتی جائیداد اپنے نام منتقل کروا لی تھی اور زبانی ہبہ کو بنیاد بنا کر والدہ اور بہنوں کو جائیداد سے محروم کر دیا تھا۔ جس پر والدہ اور بہنوں نے عدالتی راستہ اختیار کیا تو ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ نے بھائیوں کے حق میں فیصلہ دیا۔

اس کے بعد والدہ اور بہنوں نے جائیداد کے حق کیلیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!