خیبرپختونخوا کے سرکاری اسپتال میں روبوٹک سرجری کی تیاری
ویب ڈیسک
|
9 Feb 2026
خیبر پختونخوا میں جدید طبی سہولیات کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیزز (آئی کے ڈی) نے روبوٹک سرجری متعارف کرانے کی عملی تیاری شروع کر دی ہے۔
اس سلسلے میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران برطانیہ سے آئے ہوئے ماہر ڈاکٹروں نے دو کامیاب روبوٹک سرجریز انجام دیں۔ ان سرجریز میں پروفیسر متین شریف، جو ویسٹ کینٹ یورولوجی کینسر سینٹر میں روبوٹک سرجری کے ڈائریکٹر ہیں، اور ڈاکٹر جاوید برکی، کنسلٹنٹ یورولوجیکل سرجن، نے حصہ لیا۔
روبوٹک سرجری ایک جدید اور کم تکلیف دہ طریقہ علاج ہے، جس میں چھوٹے چیروں کے ذریعے روبوٹک بازو استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ بازو ایک کنسول سے کنٹرول ہوتے ہیں، جس سے سرجن کو زیادہ درستگی اور بہتر کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔
آئی کے ڈی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کامران خان نے میڈیا کو بتایا کہ ادارے نے روبوٹک سرجری کے لیے تقریباً 10 لاکھ ڈالر مالیت کے سرجیکل روبوٹ کی خریداری کی تجویز بورڈ آف گورنرز اور صوبائی حکومت کو ارسال کر دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحت کارڈ پلس کے تحت روبوٹک سرجریز کو بھی شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ڈاکٹر کامران خان کے مطابق متعلقہ کمپنی نے ورکشاپ کے لیے روبوٹ کراچی سے پشاور بلا معاوضہ منتقل کیا اور مقامی ڈاکٹروں و عملے کو تربیت دینے میں بھی تعاون کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی کے ڈی کے سرجن پہلے ہی لیپروسکوپک سرجری میں مہارت رکھتے ہیں اور مناسب تربیت کے بعد روبوٹک تکنیک بھی بخوبی اپنا سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں پیچیدہ ٹیومر کے مریضوں پر توجہ دی جائے گی، بعد ازاں اس سہولت کا دائرہ مزید سرجریز تک بڑھایا جائے گا۔
ورکشاپ میں شریک یورولوجسٹ ڈاکٹر رضوان اللہ کندی نے کہا کہ گردے کے ٹیومر اور گلٹیوں کے مریضوں پر روبوٹک طریقے سے کی گئی دونوں سرجریز کامیاب رہیں اور مریض تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جدید ٹیکنالوجی مستقبل میں پاکستان میں روبوٹک ٹرانسپلانٹ سرجری کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔
Comments
0 comment