آیت اللہ خامنہ ای کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر ایک نظر!

آیت اللہ خامنہ ای کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر ایک نظر!

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای 1939 میں ایران کے شہر مشہد میں پیدا ہوئے
آیت اللہ خامنہ ای کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر ایک نظر!

Webdesk

|

1 Mar 2026

کراچی: ایران کے روحانی پیشوا سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے گزشتہ روز امریکی اور صیہونی حملے کے نتیجے میں جام شہادت نوش کیا، جس کے بعد دنیا بھر میں ان کے چاہنے والے شدت غم سے نڈھال ہیں اور پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں احتجاج کیا جارہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای 1939 میں ایران کے شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ بچپن سے ہی مذہبی تعلیم حاصل کی اور کم عمری میں ہی ایک معتبر عالم دین بن گئے۔

بعدازاں ایرانی سپریم لیڈر نے شاہ ایران کے خلاف جدوجہد میں ایرانی انقلاب کے بانی امام خمینی کی جدجہد میں شمولیت اختیار کرلی اور ان کا شمار امام خمینی کے قریبی رفقا میں کیا جانے لگا، اس دوران  وہ کئی برسوں تک روپوش رہے اور انہیں جیل بھی کاٹنی پڑی۔ شاہِ ایران کی خفیہ پولیس نے انہیں 6 مرتبہ گرفتار کیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

آیت اللہ خمینی نے انقلاب کے بعد انہیں تہران میں جمعے کی نماز کا امام مقرر کیا۔ 1980 سے 1981 کے دوران وہ ایرانی پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے۔اس دوران ان پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے اور ان کا دایاں ضائع ہوگیا۔

انہیں 1981میں ایران کا صدر منتخب کیا گیا، وہ اس عہدے پر 1989 تک  رہے اور انہیں امام خمینی کی وفات پر اسلامی جمہوریہ  ایران کا رہبر اعلی بنادیا گیا، وہ اسلامی انقلاب کے بعد ایران کے رہبر اعلی بننے والے دوسرے شخص تھے اور اپنی شہادت تک 37 سال تک اس عہدے پر رہے۔

ایرانی سپریم لیڈر عالم اسلام کی طاقت ور مذہبی اور سیاسی شخصیت تھے۔ وہ ایران کے رہبر اعلیٰ، ولی فقیہ اوردنیا بھر میں کروڑوں  اہل تشیع مسلمانوں کے مرجع تقلید تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 86 سال تھی۔

انہوں نے اپنے پیش رو کی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے قبلہ اول کی آزادی کی تحریک کی سرپرستی کی اور فلسطین اور کشمیر سمیت دنیا کے مظلوم اقوام اور امریکا اور اسرائیل کے خلاف سرگرم مزاحمتی تنظیموں کی بھرپور مدد و حمایت کو مزید آگے بڑھایا۔اسی وجہ سے آیت اللہ خامنہ ای کا دنیا کی اہم مزاحمتی تنظیموں پر گہرا اثرورسوخ تھا۔

آیت اللہ خامنہ ای کی اپنی اہلیہ منصورہ  خجستہ باقر زادہ سے 6 اولادیں ہیں جن میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ امریکی حملے میں ان کی ایک بیٹی،داماد، نواسا اور بہو بھی جام شہادت نوش کرگئے۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!