1 hour ago
جیکب آباد میں تھانے کے اندر لڑکی سے پولیس افسر ہ و اہلکاروں کی لڑکی کیساتھ اجتماعی زیادتی
ویب ڈیسک
|
21 Jan 2026
جیکب آباد میں پولیس تھانے کے اندر مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا ہے۔
متاثرہ لڑکی نے بیان میں شکوہ کیا کہ مقدمے میں نامزد کیے گئے سات پولیس اہلکاروں کے علاوہ متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او (آر ڈی 44) اور ہیڈ منشی کے نام ایف آئی آر میں شامل نہیں کیے، حالانکہ ان کا کردار بھی سامنے آنا چاہیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ وہ، اس کی بہن اور دادی ایک قتل کے مقدمے کے سلسلے میں کئی دن تک تھانے میں رکھے گئے، جہاں اس دوران اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
متاثرہ لڑکی نے مطالبہ کیا کہ ایس ایچ او اور ہیڈ منشی کو بھی مرکزی ملزمان کے طور پر مقدمے میں شامل کیا جائے۔
عدالت نے متاثرہ لڑکی کے ساتھ ساتھ اس کی بہن اور دادی کے بھی بیانات ریکارڈ کیے، جس کے بعد کیس کی تفتیش فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے حوالے کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اس واقعے کا مقدمہ متاثرہ لڑکی کی دادی کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 375-A (زیادتی)، 344 (دس دن سے زائد غیر قانونی حراست)، 506 (دھمکیاں دینا) اور 34 (مشترکہ نیت) شامل کی گئی ہیں۔
Comments
0 comment