1 hour ago
سانحہ گل پلازہ، متاثرہ دکاندار 1 ماہ بعد بھی 5 لاکھ کی فوری امدادی رقم سے محروم
ویب ڈیسک
|
20 Feb 2026
کراچی: گل پلازہ میں لگنے والی آگ کو ایک ماہ گزر چکا ہے، مگر متاثرہ دکاندار آج بھی مالی امداد کے منتظر ہیں۔ آگ نے جہاں عمارت اور سامان کو جلا کر خاک کر دیا، وہیں کئی خاندانوں کا روزگار بھی متاثر ہوا۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر انہیں امداد کی یقین دہانی کرائی گئی تھی اور پانچ لاکھ روپے فوری مدد کے طور پر دینے کا ذکر بھی کیا گیا تھا، لیکن ایک ماہ گزرنے کے باوجود بیشتر دکانداروں کو کوئی رقم موصول نہیں ہوئی۔
خبیب نامی دکاندار، جو پہلے گل پلازہ میں فرنیچر کا کاروبار کرتے تھے، اب ایک چھوٹے سے آؤٹ لیٹ میں محدود پیمانے پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے کاروبار سنبھالنے کی کوشش کی، مگر آرڈرز بہت کم ملے۔ ان کے مطابق ہمدردی تو ملی، مگر کاروبار صرف جذبات پر نہیں چلتا۔
اسی طرح انس سمین، جن کی بیسمنٹ میں تین دکانیں تھیں، اب اپنے بھائی کے دفتر کے ایک کونے سے آن لائن کاروبار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی جگہ لینے کے لیے ایڈوانس کرایہ درکار ہے، جو اس وقت ممکن نہیں۔ ان کے مطابق بغیر سرمائے کے دوبارہ کاروبار شروع کرنا بہت مشکل ہے۔
ایک اور متاثرہ دکاندار بلال نے بتایا کہ ان کے مصنوعی پھولوں اور سجاوٹ کے سامان کی دکان ہی گھر کی واحد آمدنی کا ذریعہ تھی۔ ان کے اندازے کے مطابق انہیں تقریباً 50 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ دکان ذاتی ملکیت تھی جو برسوں کی محنت سے بنائی گئی تھی۔
دوسری جانب کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ریحان حنیف کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے مالی امداد چیمبر کے ذریعے متاثرین تک پہنچائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق دو ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں جن کی جانچ پڑتال کے لیے ہر درخواست گزار کا انٹرویو کیا گیا۔ دکان کے سائز، جلنے والے سامان اور دستاویزات کی بنیاد پر نقصان کا تخمینہ لگایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ کچھ کیسز میں دعویٰ کردہ رقم کم یا زیادہ ہو سکتی ہے، اس لیے ہر کیس کا الگ جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ادائیگیاں مرحلہ وار کی جائیں گی اور رقم ہر متاثرہ شخص کے نقصان کے مطابق مختلف ہو گی۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں فوری مالی مدد کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنا کاروبار دوبارہ کھڑا کر سکیں اور اپنے خاندان کی ضروریات پوری کر سکیں۔
Comments
0 comment