3 hours ago
ٹک ٹاکر شمسو بی بی کے قتل کی تحقیقات میں اہم پیش رفت، 4 افراد زیرحراست
ویب ڈیسک
|
17 Aug 2026
راولپنڈی: پولیس نے ٹک ٹاکر شمسو عرف عائشہ گلمنہ کے قتل کی تحقیقات میں ایک نامزد ملزم سمیت 4 افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق زیرحراست افراد میں 3 مبینہ سہولت کار بھی شامل ہیں، جبکہ مقدمے میں نامزد مزید 2 ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
شمسو بی بی کو 14 اگست کو ٹیکسلا کے علاقے میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔ فائرنگ کے نتیجے میں ان کے بہن بھائی بھی زخمی ہوئے تھے۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد گرفتار ملزم پر الزام ہے کہ اس نے شمسو بی بی کو فون کرکے گھر سے باہر بلایا تھا۔ تفتیشی افسر سب انسپکٹر محمد فیاض کے مطابق دیگر نامزد ملزمان کی تلاش جاری ہے اور ان کا تعلق جنوبی وزیرستان سے بتایا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جیو فینسنگ کے دوران قتل کے وقت دونوں مطلوب ملزمان کے موبائل فونز کی موجودگی مری میں سامنے آئی۔ تفتیشی افسر کے مطابق جائے وقوعہ پر ان کی موجودگی کے شواہد نہ ملنے کی وجہ سے پولیس اس پہلو کو بھی دیکھ رہی ہے کہ شمسو بی بی کو مبینہ طور پر کرائے کے قاتلوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
مقدمہ مقتولہ کے والد فضل کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق شمسو بی بی کو ایک شخص کی فون کال موصول ہوئی، جس کے بعد وہ اپنے بہن بھائی کے ہمراہ گاڑی میں والد کے گھر جانے کے لیے روانہ ہوئیں۔ فیصل ٹاؤن کے قریب دو موٹر سائیکل سواروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔
فائرنگ کے دوران گولی شمسو بی بی کی گردن میں لگی اور وہ موقع پر جاں بحق ہوگئیں، جبکہ گاڑی بے قابو ہوکر سامنے سے آنے والے ڈمپر سے ٹکرا گئی۔ حادثے میں ان کے بہن بھائی بھی زخمی ہوئے۔
ایف آئی آر میں مقتولہ کے والد نے دعویٰ کیا کہ قتل کی وجہ رقم کا لین دین تھا۔ ان کے مطابق بیٹی نے انہیں بتایا تھا کہ بعض افراد نے اس سے رقم لی ہوئی تھی اور اسے دھمکیاں بھی دی جا رہی تھیں۔
تفتیشی افسر کے مطابق قتل کی تحقیقات کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور شمسو بی بی کے زیر استعمال موبائل فون کا فرانزک معائنہ بھی کرایا جا رہا ہے۔ پولیس ان افراد کو بھی تحقیقات میں شامل کرنے کے لیے قانونی کارروائی کر رہی ہے جن سے مقتولہ کے زیادہ رابطے تھے۔
مقتولہ کے بھائی رحمت اللہ نے بھی قتل کی وجہ رقم کے لین دین کو قرار دیا، تاہم انہوں نے گرفتار شخص کی نامزدگی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ دوسری جانب تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ مقدمے کے اندراج کے لیے تحریر خود مقتولہ کے والد نے فراہم کی تھی۔
پولیس نے مزید تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے خیبر پختونخوا پولیس سے بھی تعاون طلب کیا ہے۔
Comments
0 comment