میر رضا کو گھر سے آخری بار لے جانے والا آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کمیشن میں پیش، کاروبار اور گھر ختم ہونے کے انکشافات

میر رضا کو گھر سے آخری بار لے جانے والا آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کمیشن میں پیش، کاروبار اور گھر ختم ہونے کے انکشافات

کمیشن کی پولیس افسر عزیز اللہ کے لیے احکامات کی ہدایت
میر رضا کو گھر سے آخری بار لے جانے والا آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کمیشن میں پیش، کاروبار اور گھر ختم ہونے کے انکشافات

ویب ڈیسک

|

3 Sep 2026

کراچی: میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں جوڈیشل کمیشن کے سامنے آج اس ڈرائیور عزیز اللہ کو پیش کیا گیا، جس نے میر رضا کو پی ایچ ایس سے گلستانِ جوہر بلاک ٹو میں اس مقام تک پہنچایا تھا جہاں سے کچھ فاصلے پر بعد میں میر رضا کی لاش ملی تھی۔

ڈرائیور عزیز اللہ نے کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے بتایا کہ واقعے کے روز میر رضا خوش نظر آ رہے تھے اور راستے میں گانے سن رہے تھے۔ انہوں نے فون پر کسی سے بات نہیں کی، تاہم ایسا محسوس ہوا کہ وہ پیغامات کے ذریعے کسی سے رابطے میں تھے۔

عزیز اللہ کے مطابق وہ میر رضا کو پی ایچ ایس سے تاریک روڈ کے راستے گلستانِ جوہر بلاک ٹو لے کر پہنچا۔ راستے میں میر رضا نے کہا کہ مقام کی نشاندہی کی ضرورت نہیں، وہ خود راستہ بتائیں گے۔ بلاک ٹو گلستانِ جوہر میں میر رضا گاڑی سے اتر گئے اور ڈرائیور کو ایک ہزار روپے دیے، تاہم باقی رقم واپس نہیں لی۔

ڈرائیور نے کمیشن کو بتایا کہ اس کیس کی وجہ سے وہ شدید پریشانی کا شکار ہے۔ اس کا گھر چھوٹ گیا، آن لائن ٹیکسی چلانے کی ملازمت بھی ختم ہوگئی، کمپنی نے گاڑی واپس لے لی اور اس کی شناخت بھی بند کردی گئی۔ عزیز اللہ کے مطابق وہ اس وقت تھانے میں رہنے پر مجبور ہے۔

اس پر کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ کمپنی سے بات کرکے عزیز اللہ کا روزگار بحال کرایا جائے، اسے غیر ضروری طور پر تنگ نہ کیا جائے اور اس کے لیے مناسب رہائش کا بھی بندوبست کیا جائے۔

جسٹس عمر سیال نے ڈرائیور کو یقین دہانی کرائی کہ وہ بھی اپنی حد تک اس کے ساتھ تعاون کریں گے اور اس کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

کمیشن کے سربراہ نے مزید بتایا کہ میر رضا کے اہل خانہ نے بھی ڈرائیور عزیز اللہ کے کردار اور تعاون کی بہت تعریف کی ہے۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!