2 hours ago
یورپ میں قیامت خیز گرمی، 1300 اموات ریکارڈ
Webdesk
|
29 Jun 2026
پیرس: یورپ اس وقت موسم گرما کی تاریخ کی غیر معمولی اور شدید ترین گرمی کی لہر کا سامنا کر رہا ہے، جہاں کئی ممالک میں درجہ حرارت کے تمام پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔
عالمی ادار صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ شدید گرمی سینکڑوں اضافی اموات کا سبب بن رہی ہے اور صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
عالمی ادار صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ 21 جون سے اب تک یورپ میں شدید گرمی سے منسلک 1300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔
ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس کا کہنا تھا کہ شدید گرمی سے ہونے والی اموات کو اکثر خاموش قاتل کہا جاتا ہے، کیونکہ یورپ کے گھروں، دفاتر اور اسکولوں کی تعمیر ایسے درجہ حرارت کے لیے نہیں کی گئی تھی۔
انہوں نے مزید کہنا تھا کہ یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم ہے، جہاں درجہ حرارت عالمی اوسط رفتار سے تقریبا دو گنا زیادہ بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت لاکھوں لوگ شدید گرمی میں زندگی گزار رہے ہیں، سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، اسکول بند ہیں اور بجلی کا نظام شدید دبا کا شکار ہے۔
انہوں نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ عوام کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہیٹ ہیلتھ ایکشن پلان پر عمل درآمد کریں۔
ٹیڈروس ایڈہانوم نے مزید لکھا کہ موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کے باعث پہلے جو گرمی کی لہر ایک نسل میں ایک بار آتی تھی. اب تقریبا ہر سال آ رہی ہے۔
ہمیں پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا۔فرانس کی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ بدھ سے ملک میں تقریبا ایک ہزار اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان میں زیادہ تر افراد کی عمر 65 سال یا اس سے زیادہ تھی، جبکہ گھروں میں ہونے والی اموات کی تعداد میں 40 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ 20 جون سے شروع ہونے والی یہ گرمی کی لہر یورپ کی تاریخ کی بدترین ہیٹ ویو ہے۔ شدید گرمی نے بجلی کی پیداوار، ٹرانسپورٹ، صحت کے نظام اور بنیادی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے۔
Comments
0 comment