پاکستان میں 5 یا زائد بچوں والی ماں کی شرح میں بڑی کمی

پاکستان میں 5 یا زائد بچوں والی ماں کی شرح میں بڑی کمی

ایک یا دو بچوں والی ماں کی مجموعی شرح 26 فیصد سے بڑھ کر 33 فیصد ہو گئی
پاکستان میں 5 یا زائد بچوں والی ماں کی شرح میں بڑی کمی

Webdesk

|

30 Jul 2026

کراچی: پاکستان کے مردم و صحت سروے  کے مطابق 5 یا اس سے زیادہ بچوں والی ماں کی شرح 1990-91 میں 47 فیصد تھی، جو 2017-18 میں کم ہو کر 33 فیصد رہ گئی۔

 اسی عرصے کے دوران ایک یا دو بچوں والی ماں کی مجموعی شرح 26 فیصد سے بڑھ کر 33 فیصد ہو گئی، جو نسبتا چھوٹے خاندانوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔

 گیلپ پاکستان کے ڈیجیٹل تجزیاتی شعبے کی جانب سے پاکستان کے مردم و صحت سروے (ڈی ایچ ایس) 1990-91 اور 2017-18 کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرتے ہوئے انہیں بھارت کے قومی خاندانی صحت سروے (این ایف ایچ ایس) 1993 سے 2021 کے نتائج سے تقابلی طور پر پیش کیا گیا ہے۔

 تجزیے کے مطابق پاکستان میں خاندانوں کے حجم میں کمی کا رجحان ضرور سامنے آ رہا ہے، تاہم یہ تبدیلی بھارت کے مقابلے میں کہیں زیادہ سست رفتار ہے۔ گیلپ پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ پاکستان میں بہتری دیکھی جا رہی ہے، تاہم ملک اب بھی اس حوالے سے بھارت سے کافی پیچھے ہے۔

 2021 تک بھارت میں 60 فیصد ماں کے صرف ایک یا دو بچے تھے، جبکہ پاکستان کے تازہ ترین سروے میں یہ شرح صرف 33 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح بھارت میں پانچ یا اس سے زیادہ بچوں والی ماں کی شرح صرف 8 فیصد تھی، جبکہ پاکستان میں یہ شرح 33 فیصد رہی۔

 تجزیے میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کی 2017-18 کی صورتحال بھارت کی 2006 کی سطح کے برابر نہیں تھی، کیونکہ 2006 میں بھارت میں پانچ یا اس سے زیادہ بچوں والی ماں کی شرح پہلے ہی 20 فیصد تک آ چکی تھی، جو پاکستان کی 33 فیصد شرح سے خاصی کم ہے۔

 یہاں تک کہ پاکستان کی تازہ ترین شرح بھی بھارت کے 1993 کے ابتدائی سروے میں ریکارڈ کی گئی 27 فیصد شرح سے زیادہ رہی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک میں چھوٹے خاندانوں کا رجحان بڑھ رہا ہے، لیکن بھارت میں آبادیاتی تبدیلی کی رفتار پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز رہی ہے۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!