اسٹیٹ بینک آف پاکستان نےا ٓئندہ دو ماہ کے لیے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا
Webdesk
|
14 Sep 2026
کراچی: ملک میں مہنگائی کے ممکنہ دبا اور عالمی معاشی صورتحال کے پیش نظر اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کی دوسری مانیٹری پالیسی میں شرح سود 11.5 فیصد ہی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے معاشی حالات کا جائزہ لینے کے بعد موجودہ شرح سود میں تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کی جس کے بعد پالیسی ریٹ کو اسی سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا۔
اس فیصلے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ معاشی جائزہ مذاکرات ہونے والے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق موجودہ حالات میں پالیسی ریٹ کو مستحکم رکھنا ایک اہم فیصلہ ہے۔
مرکزی بینک نے عالمی عوامل پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ مشرقِ وسطی کی صورتحال اور بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان میں مہنگائی کے لیے اضافی دبا پیدا کر رہا ہے۔
حکام کے مطابق انہی معاشی اور عالمی عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے فی الحال شرح سود میں کمی یا اضافہ نہیں کیا گیا۔
Comments
0 comment