1 hour ago
ڈیفنس تشدد واقعہ، ایس ایس پی کورنگی کی سسرالی رشتے دار کے خلاف مقدمہ درج
ویب ڈیسک
|
5 Sep 2026
کراچی: ڈیفنس کے علاقے چھوٹا بخاری میں رہائشی عمارت کے اندر بہن بھائی کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے معاملے میں پولیس نے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ کورنگی فدا حسین جانوری کی سسرالی رشتے دار خواتین اور موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق درخشاں تھانے میں مقدمہ نمبر 623 سال 2026 نورالعین کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں دفعات 147، 148، 379، 427 اور 337 اے ون شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق نورالعین نے مؤقف اختیار کیا کہ 20 اگست کی رات وہ اپنے بھائی اور والدہ کے ہمراہ فلیٹ میں موجود تھیں کہ ایک پولیس اہلکار نے دروازے پر آکر انہیں بتایا کہ مریم نامی خاتون گراؤنڈ فلور سے بلا رہی ہیں۔
مدعیہ کے مطابق کچھ دیر بعد مریم مبینہ طور پر گالم گلوچ کرتے ہوئے فلیٹ پر آئیں اور دروازے کو لاتیں مارنے لگیں۔ دروازہ کھولنے پر مریم نے مبینہ طور پر نورالعین کو بالوں سے پکڑا، موبائل فون چھین کر نیچے پھینک دیا اور والدہ کو بھی زد وکوب کیا، جبکہ دھکم پیل کے دوران نورالعین کے چہرے پر چوٹ لگی۔
نورالعین کا الزام ہے کہ بعدازاں مریم اپنی بیٹی اور پولیس اہلکاروں کے ہمراہ دوبارہ فلیٹ پر آئیں۔ اس دوران موبائل فون چھیننے کی کوشش کی گئی، جبکہ مریم نے اس کا بھائی کا فون بھی اٹھا لیا۔ مدعیہ کے مطابق مریم کی بیٹی نے ڈمبل سے بھی حملہ کیا، جس کے بعد وہ لوگ فلیٹ کے اندر چلے گئے اور مدد کے لیے پولیس کی ہیلپ لائن پر اطلاع دی۔
مقدمے میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ فلیٹ کے باہر موجود پولیس اہلکاروں نے دروازے پر نصب کیمرا توڑ دیا، جبکہ کچھ دیر بعد درخشاں تھانے کی پولیس نے مبینہ طور پر گھر کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوکر نورالعین اور اس کے بھائی کے موبائل فون قبضے میں لے لیے اور انہیں تھانے لے گئی۔
نورالعین نے نامزد خواتین اور دیگر افراد کے خلاف مبینہ تشدد، موبائل فون لے جانے اور کیمرے کو نقصان پہنچانے پر قانونی کارروائی کی درخواست کی۔ مقدمہ درج کرنے کے بعد مزید تفتیش انچارج انویسٹی گیشن سی آئی سی کے سپرد کردی گئی ہے۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج گزشتہ ماہ 28 اگست کو سامنے آئی تھی، جس کے بعد کراچی پولیس چیف نے 29 اگست کو نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ساوتھ کو انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔
ڈی آئی جی ساوتھ کی انکوائری رپورٹ میں نورالعین اور اس کے بھائی علی احسن کے خلاف درخشاں تھانے میں درج مقدمے کو بی کلاس کرنے کی سفارش کی گئی تھی، جبکہ ایس ایس پی فدا حسین جانوری سمیت متعدد پولیس اہلکاروں کو معاملے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے محکمانہ کارروائی اور مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ایس ایس پی فدا حسین جانوری پر انتظامی غفلت کا الزام عائد کیا گیا، جبکہ ان کی ساس، سالی، سالے، ڈسٹرکٹ کورنگی کے چار اہلکاروں اور دیگر متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔
Comments
0 comment