6 hours ago
اذان اغوا کیس کے 3 ملزمان گرفتار، پیسوں کی لالچ میں والد کے دوست نے اغوا کیا
ویب ڈیسک
|
21 Jul 2026
کراچی: ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس نے دو سالہ آذان علی خان کے اغوا کا معمہ حل کرتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا، جبکہ مغوی بچے کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔
ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کے مطابق تفتیش سے معلوم ہوا کہ بچے کے والد کا قریبی دوست محمد احتشام ہی اغوا کی منصوبہ بندی اور واردات کا مرکزی کردار تھا۔ پولیس نے اس کے ساتھ اس کے سالے عبدالوہاب اور گھارو کے رہائشی افتخار احمد کو بھی گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق 18 جولائی کو منگھوپیر کی ایک نجی رہائشی سوسائٹی سے ڈھائی سالہ آذان کو اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد بیرون ملک کے ایک واٹس ایپ نمبر سے اہل خانہ سے 50 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ مرکزی ملزم نے مالی فائدہ حاصل کرنے کی غرض سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اغوا کی منصوبہ بندی کی۔ واردات سے قبل اس نے موٹرسائیکل کے لیے جعلی نمبر پلیٹ بنوائی اور کئی روز تک متاثرہ خاندان کی نقل و حرکت پر نظر رکھتا رہا۔ موقع ملنے پر اس نے بچے کو گھر کے باہر سے اغوا کیا اور بعد ازاں اسے اپنے ساتھیوں کے ذریعے گھارو منتقل کر دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اغوا کے بعد بھی مرکزی ملزم متاثرہ خاندان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا، بچے کی تلاش میں شریک ہوتا رہا اور خود کو شک سے بچانے کی کوشش کرتا رہا۔ اسی دوران اس نے بیرون ملک موجود ایک دوست کی مدد سے تاوان کا مطالبہ بھی بھجوایا۔
پولیس کی مسلسل کارروائی، تکنیکی شواہد اور میڈیا پر خبر کے پھیلنے کے بعد ملزمان دباؤ میں آ گئے۔ بعد ازاں پولیس نے اطلاع ملنے پر گھارو میں کارروائی کرتے ہوئے بچے کو بحفاظت بازیاب کر لیا اور یکے بعد دیگرے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
پولیس نے ملزمان کی نشاندہی پر واردات میں استعمال ہونے والی موٹرسائیکل، جعلی نمبر پلیٹ، ہیلمٹ اور دیگر سامان بھی برآمد کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان نے دورانِ تفتیش جرم کا اعتراف کیا ہے، جبکہ ان کے بیانات کی تصدیق لوکیشن ڈیٹا اور دیگر تکنیکی شواہد سے بھی ہوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
Comments
0 comment