1 hour ago
میر رضا نے موت سے قبل آخری 12 گھنٹے کہاں گزارے؟ اہم انکشاف
Webdesk
|
23 Aug 2026
کراچی کے نوجوان میر رضا نے موت سے قبل کے آخری 12 گھنٹے کہاں گزارے؟ کس کس سے ملاقاتیں اور باتیں کیں، تحقیقاتی ٹیم نے میر رضا کی موت کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں۔
اس سلسلے میں تفصیلی رپورٹ آئندہ دنوں میں میڈیا پر جاری کی جائے گی۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تفتیشی حکام نے بتایا کہ لاش ملنے کے مقام مقام پر میر رضا کے ساتھ کوئی نہیں تھا، میر رضا آخری 12 گھنٹے انویسٹمینٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔
ایک روز قبل 27 جولائی کو شام 5:54 بجے میر رضا شارع فیصل پر احمد راجہ نامی شخص سے ملا، احمد راجہ میر رضا کے درمیان 70 سے 80 لاکھ کی انویسٹمنٹ کی بات ہوئی۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق بینک میر رضا کی قرضے کی ایک درخواست کو مسترد کرچکا تھا، جس پر میر رضا نے اپنی بہن کے نام پر قرضے کی درخواست دلوائی۔ مقتول میر رضا کو رات 7:05 بجے بینک سے کال موصول ہوئی جس میں ان کی بہن کے نام پر ایک کروڑ روپے قرضہ منظور ہونے کا بتایا گیا، میر رضا انویسٹمنٹ کے لیے فاروق محمود کو بھی متعدد بار کہہ چکا تھا۔
رات 8:23 بجے فاروق محمود نے کال کرکے میر رضا سے انویسٹمنٹ سے معذرت کرلی، موت سے محض 4 گھنٹے قبل میررضا نے رات 11:50 بجے دوست عبدالرازق کے ساتھ غفار کباب ہاوس پر کھانا کھایا۔
میر رضا نے رات 12بجے فون پر صارم سید سے ہنگامی بنیادوں پر 3 کروڑ روپے قرض دینے کا کہا، اور اسے میسج کیا کہ " اگر اسے قرض نہیں ملا تو کل کی صبح میرے لیے بہت مشکل ہو جائے گی" جس کے بعد میر رضا نے رات 02:23 بجے گھر پر آکر سب سے پہلے اپنا انسٹا گرام اکاونٹ بند کردیا۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا نے 2:42 بجے فیس بک، لنکڈ ان، اسنیپ چیٹ اکاونٹس بند کیے، منگیتر نے بے چینی میں 03:10 بجے میر رضا کو کئی کالز اور میسجز کیے، لیکن رضا نے منگیتر کی کسی کال یا میسج کا جواب نہیں دیا۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق منگیتر نے میسجز میں سوشل میڈیا اکاونٹس غائب ہونے پر تشویش کا اظہار کیا، رات 3:18 رضا نے اپنے اکاونٹس سے رقم والدین کے اکاونٹس میں منتقل کی۔ رات 3:42 پر میر رضا گھر سے اپنی دکان پر پہنچا، دکان سے میر رضا نے سکیورٹی گارڈ کا پستول نکال کر ساتھ لیا۔
Comments
0 comment