3 hours ago
سانحہ گل پلازہ: جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ جاری، ذمہ دار کا تعین بھی ہوگیا
ویب ڈیسک
|
29 Aug 2026
کراچی: سانحہ گل پلازہ آتشزدگی سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سامنے آگئی، جس میں حادثے کی وجوہات، حفاظتی انتظامات، ریسکیو کارروائی اور مختلف سرکاری اداروں کی ذمہ داریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
جسٹس آغا فیصل نے رپورٹ کے دیباچے میں مصطفیٰ زیدی کا شعر بھی شامل کیا ہے:
’’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے‘‘
رپورٹ کے مطابق گل پلازہ کی عمارت خطرناک حالت میں ہونے اور فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزیوں کے باوجود مسلسل تجارتی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتی رہی۔ عمارت کی انتظامیہ کو نقائص کا علم تھا لیکن انہیں دور نہیں کیا گیا۔
کمیشن کے مطابق 2024 اور 2025 میں سول ڈیفنس کے معائنے کے دوران فائر سیفٹی آلات کی کمی، آتش گیر سامان کی موجودگی اور عمارت سے باہر نکلنے کے راستوں میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، تاہم ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے مؤثر قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آگ لگنے کی اطلاع فائر بریگیڈ کو دینے میں غیر ضروری تاخیر ہوئی، جبکہ بجلی منقطع ہونے کے بعد عمارت کے اندر اندھیرا چھا گیا جس سے بالائی منزلوں پر موجود افراد کے باہر نکلنے کے امکانات مزید کم ہوگئے۔ عمارت میں اسپیکر کا نظام موجود تھا لیکن اسے ہنگامی صورتحال میں استعمال نہیں کیا گیا۔
کمیشن کے مطابق گل پلازہ کے منظور شدہ نقشے میں 1102 دکانیں تھیں، تاہم عملی طور پر 1153 دکانیں قائم تھیں۔ دکانوں میں بڑی مقدار میں آتش گیر تجارتی سامان بھی موجود تھا۔
رپورٹ میں فائر بریگیڈ کے ردعمل پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کمیشن کے مطابق فائر فائٹنگ مؤثر انداز میں تقریباً 35 سے 40 منٹ بعد شروع ہوئی۔ پانی کی کمی اور گاڑیوں میں دوبارہ پانی بھرنے کے عمل نے بھی کارروائی متاثر کی، جبکہ ضروری آلات کی بروقت تعیناتی نہ ہونے سے عمارت میں پھنسے افراد کو بچانے کے امکانات محدود ہوگئے۔
کمیشن نے قرار دیا کہ سول ڈیفنس کی ناکامی اس لیے نہیں تھی کہ ادارے کو خطرات کا علم نہیں تھا بلکہ معلوم خامیوں کے باوجود ان پر عملدرآمد نہ کرانے میں ناکامی ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے ہائی کورٹ کی ہدایت کے باوجود گل پلازہ کا مشترکہ فائر آڈٹ نہیں کرایا۔ ڈپٹی کمشنر جنوبی کا دفتر دستیاب نگرانی کے نظام کو مؤثر طور پر فعال نہ کرنے پر ادارہ جاتی طور پر ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
کمیشن نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو بھی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ شکایت کی بنیاد پر صرف معائنہ کرنے کے مؤقف سے ادارہ اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہوسکتا تھا۔ خطرناک عمارت میں اصلاحی کارروائی کے لیے قانونی اختیارات موجود تھے، تاہم گل پلازہ کے ریکارڈ اور فائر سیفٹی نگرانی میں مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
رپورٹ میں ریسکیو 1122 کی کارروائی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیشن کے مطابق آگ لگنے کے بعد بھی کچھ وقت تک ریسکیو کا موقع موجود تھا اور بعض متاثرین نظر آ رہے تھے، جبکہ ساڑھے گیارہ بجے تک ریمپ کے ذریعے عمارت تک رسائی ممکن تھی۔ تاہم اس موقع کو بڑے پیمانے کی مؤثر امدادی کارروائی میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔
کمیشن نے بجلی کے نظام کی نگرانی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ قانون کے تحت برقی تنصیبات کے باقاعدہ معائنے ضروری تھے، لیکن الیکٹرک انسپکٹر کے بیان کے مطابق گل پلازہ کا باقاعدہ برقی معائنہ نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سانحے کی ذمہ داری کسی ایک ادارے یا حکومت پر عائد نہیں ہوتی۔ کمیشن کے مطابق مختلف ادوار میں بلڈنگ کنٹرول، فائر سیفٹی، آڈٹ، فائر فائٹنگ اور ہنگامی امداد کے لیے ادارے اور قانونی اختیارات موجود تھے، تاہم مجموعی نظام مؤثر طور پر کام نہیں کرسکا۔
کمیشن کے مطابق جانی نقصان صرف آگ کی شدت سے نہیں ہوا بلکہ تاخیر، اندھیرے، بند راستوں، رکاوٹوں اور حفاظتی نظام کی ناکامی نے بھی صورتحال کو سنگین بنایا۔
رپورٹ میں مجموعی طور پر غیر مؤثر حفاظتی نظام، ناقص نگرانی، آڈٹ پر عملدرآمد نہ ہونے، اداروں کے درمیان ذمہ داریوں کے بکھراؤ اور ریسکیو کے دستیاب مواقع بروقت استعمال نہ ہونے کو بڑے عوامل قرار دیا گیا ہے۔
Comments
0 comment