امریکا مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین سے آگے ہے، ٹرمپ

امریکا مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین سے آگے ہے، ٹرمپ

تیزی سے ترقی کرتی اے آئی مستقبل قریب میں انسانیت کے وجود کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
امریکا مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین سے آگے ہے، ٹرمپ

Webdesk

|

14 Sep 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ امریکا مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین سے آگے ہے، انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کو بعض منفی قوتیں بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہیں تاہم امریکا کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں اپنی عالمی برتری برقرار رکھنی چاہیے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے آئرلینڈ میں اپنے گالف کورس پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا دنیا کا سب سے جدید ملک ہے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ امریکا اپنی یہ برتری برقرار رکھے کیونکہ جو مصنوعی ذہانت کے میدان میں آگے ہو گا، وہی کامیابی حاصل کرے گا۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرات پر امریکا میں تشویش بڑھ رہی ہے۔

مصنوعی ذہانت کی کمپنی کے 2 محققین نے خبردار کیا ہے کہ تیزی سے ترقی کرتی اے آئی مستقبل قریب میں انسانیت کے وجود کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

اینتھروپک کمپنی کے سربراہ ڈیریو اموڈی نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو محدود کرنے کے لیے 3 نکاتی حکمتِ عملی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماڈلز کی تیاری روکنے کے بجائے اِنہیں محفوظ بنانے اور خطرات کا بہتر انداز میں جائزہ لینے کے لیے ڈویلپرز کو مناسب وقت دینا ضروری ہے۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!