2 hours ago
پاکستان کی آئی ٹی برآمدات پہلی بار 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں
Webdesk
|
17 Jun 2026
کراچی: پاکستان کی آئی ٹی شعبے نے ایک اور سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ مالی سال کے گیارہ ماہ کے دوران آٹی ٹی شعبے کی برآمدات 4 ارب ڈالر سے تجاوز جس میں فری لانسرز کی ایک ارب ڈالر مالیت کی برآمدی ترسیلات بھی شامل ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا مئی مالی سال 2025-26 کے دوران آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات کی برآمدات 4 ارب 18 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں آئی ٹی برآمدات 3 ارب 47 کروڑ ڈالر تھیں۔
اس طرح مالی سال کے گیارہ ماہ میں 70 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ آئی ٹی شعبے کی برآمدات میں پاکستان میں تیار ہونے والے سافٹ ویئر کمپنیوں اور فری لانسرز کی آمدن بھی شامل ہے۔
آئی برآمدات کے حوالے سے پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن(پیفلا)کے چیئرمین ابراہیم امین نے آئی ٹی برآمدات میں اس اضافے کو پاکستان کی نوجوان نسل کے نام کرتے ہوئے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں 99 فیصد سے زائد ہنر مند افرادی قوت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔
فری لانسرز نے آئی ٹی برآمدات کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے ہر قصبے، دیہات اور شہر میں رہنے والے نوجوان فری لانسنگ کے زریعے اپنے اور ملک کے لئے قیمتی زرمبادلہ کما رہے ہیں۔ اور رواں مالی سال کے دوران ایک ارب ڈالر سے زائد برآمدات کرچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فری لانسرز اور ڈیجیٹل ورکرز کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے کیونکہ طلبہ اور نوجوان پیشہ ور افراد میں فری لانسنگ کے مواقع اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت سے متعلق آگاہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ابراہیم امین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے پاکستانی فری لانسرز کے لیے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔ اور آنے والے دنوں میں فری لانسرز کی برآمدی آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی ڈیجیٹل معیشت میں پاکستان کی پوزیشن بھی مزید مستحکم ہوگی۔
شعبے کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے آئی ٹی ایکسپورٹر ڈاکٹر نعمان سعید نے کہا کہ پاکستان کے پاس آئی ٹی برآمدات میں مزید اضافہ کرنے اور زیادہ زرمبادلہ کمانے کی صلاحیت ہے۔ بعض ساختیاتی کمزوریاں اس شعبے کو اپنی مکمل استعداد استعمال میں رکاوٹ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ مقامی آئی ٹی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنایا جا سکے اور برآمدات میں متاثر کن ترقی کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ افرادی قوت کو جدید اور مطلوبہ ڈیجیٹل تعلیم فراہم کی جائے۔ نئی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے اور موجودہ منڈیوں میں اپنی موجودگی مزید مستحکم کرنے پر بھی توجہ دی جائے
Comments
0 comment