پاکستان میں رشوت ستانی اور بدعنوانی میں کمی ہوئی، 67 فیصد پاکستانیوں کا خیال

پاکستان میں رشوت ستانی اور بدعنوانی میں کمی ہوئی، 67 فیصد پاکستانیوں کا خیال

ایف پی سی سی آئی نے سروے کے نتائج جاری کردیے
پاکستان میں رشوت ستانی اور بدعنوانی میں کمی ہوئی، 67 فیصد پاکستانیوں کا خیال

ویب ڈیسک

|

4 Feb 2026

آل پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (ایف پی سی سی آئی) نے ملک میں شفافیت اور احتساب سے متعلق ایک سروے کے نتائج جاری کر دیے ہیں، جن میں بدعنوانی کے حوالے سے عوامی رائے اور ذاتی تجربات میں واضح فرق سامنے آیا ہے۔

سروے کے مطابق 67 فیصد شہریوں نے بتایا کہ انہیں ذاتی طور پر بدعنوانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 73 فیصد افراد نے یہ بھی بتایا کہ انہیں کبھی رشوت دینے کی ضرورت پیش نہیں آئی، جبکہ صرف 5 فیصد نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کسی سرکاری ملازم کو غیر قانونی طریقے سے ذاتی دولت بناتے دیکھا۔

دوسری جانب عوامی تاثر کے حوالے سے نتائج کچھ مختلف سامنے آئے۔

سروے میں شامل 68 فیصد افراد کا خیال ہے کہ سرکاری اداروں میں رشوت ستانی عام ہے، جبکہ 27 فیصد نے بتایا کہ ان سے کسی نہ کسی موقع پر رشوت طلب کی گئی۔

اسی طرح 56 فیصد شرکاء کا تاثر ہے کہ سرکاری محکموں میں اقربا پروری پائی جاتی ہے، تاہم 24 فیصد نے کہا کہ انہوں نے خود ایسی صورتحال کا سامنا کیا جہاں میرٹ کو نظرانداز کیا گیا۔

ایف پی سی سی آئی کے مطابق اس سروے کا مقصد ملک میں شفافیت اور احتساب سے متعلق ایک جامع انڈیکس تیار کرنا ہے تاکہ زمینی حقائق اور عوامی تاثرات کے درمیان فرق کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے سروے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایک سیاسی گروہ نے اپنے مفادات کے لیے منفی پروپیگنڈا کیا، جبکہ یہ سروے اصل حقائق سامنے لانے کے لیے کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور شفاف نظام کے قیام کو اپنی ترجیح سمجھتی ہے۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!