سونے کی قیمتیں 2 ہفتوں کی بلند سطح پر پہنچ گئیں
Webdesk
|
5 Aug 2026
کراچی: عالمی منڈی میں سونے کی قیمت بدھ کو مسلسل تیسرے سیشن میں بڑھ گئی، جس کی وجہ امریکی ڈالر کی کمزوری اور تیل کی قیمتوں میں کمی کو قرار دیا جا رہا ہے، سرمایہ کار اب امریکی روزگار کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں تاکہ شرح سود کے مستقبل کے حوالے سے مزید اشارے مل سکیں۔
اسپاٹ گولڈ کی قیمت 2.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4,162.83 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئی، جو دو ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز 1 فیصد اضافے کے بعد 4,191.90 ڈالر فی اونس پر رہے۔
امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کے باعث دیگر کرنسیوں میں تجارت کرنے والے خریداروں کے لیے ڈالر میں قیمت والے دھاتیں زیادہ پرکشش ہو گئیں۔
دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں بھی مزید کمی دیکھی گئی، جو گزشتہ دو سیشنز میں ہونے والی شدید گراوٹ کے بعد جاری رہی۔ کمزور تیل کی قیمتیں مہنگائی کے خدشات کو کم کر سکتی ہیں، جس سے عموما شرح سود میں اضافے کے امکانات متاثر ہوتے ہیں۔
قطر نے کہا ہے کہ ثالثی کرنے والے فریق امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں میں پیش رفت کر رہے ہیں تاہم تہران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ مذاکرات پہلے ہی شروع ہو چکے ہیں۔
او اے این ڈی اے کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ کے مطابق، "تیل کے ساتھ سونے کا تعلق اب بھی برقرار ہے کیونکہ تیل کی قیمتیں عالمی معیشت اور مہنگائی کے دبا پر نمایاں اثر ڈالتی ہیں، اگر کشیدگی میں مزید کمی کا واضح راستہ سامنے آتا ہے تو سونے کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
" مارکیٹ میں فیڈرل ریزرو کی آئندہ 15 اور 16 ستمبر کی میٹنگ میں شرح سود بڑھانے کے امکان کو 59 فیصد تک دیکھا جا رہا ہے جو ایک روز قبل 67 فیصد تھا۔
عام طور پر بلند شرح سود کے ماحول میں سونا اپنی کشش کھو دیتا ہے کیونکہ یہ کسی قسم کا منافع یا سود فراہم نہیں کرتا، اگرچہ اسے مہنگائی کے خلاف تحفظ کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
Comments
0 comment