ٹرمپ انتظامیہ نے ملکیت کی منتقلی کے بعد وفاقی ڈیوائسز پر ٹک ٹاک سے پابندی اٹھا لی

ٹرمپ انتظامیہ نے ملکیت کی منتقلی کے بعد وفاقی ڈیوائسز پر ٹک ٹاک سے پابندی اٹھا لی

وزارتِ انصاف نے اپنے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا کہ ٹک ٹاک اب 2022 کے اس قانون کی زد میں نہیں آتا
ٹرمپ انتظامیہ نے ملکیت کی منتقلی کے بعد وفاقی ڈیوائسز پر ٹک ٹاک سے پابندی اٹھا لی

Webdesk

|

11 Aug 2026

واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی سرمایہ کاروں کو آپریشنز منتقل کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ نہ قرار دیتے ہوئے وفاقی سرکاری ڈیوائسز پر اس کے استعمال پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں۔

وائٹ ہاس کے آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ (OMB) نے 2023 کی وہ ہدایت واپس لے لی ہے جس کے تحت چینی ملکیت کے باعث سرکاری ڈیوائسز پر اس ویڈیو شیئرنگ ایپ کا استعمال روک دیا گیا تھا۔

وزارتِ انصاف نے اپنے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا کہ ٹک ٹاک اب 2022 کے اس قانون کی زد میں نہیں آتا جس کے تحت وفاقی پلیٹ فارمز پر اس کا استعمال ممنوع تھا۔ پالیسی میں یہ نمایاں تبدیلی جنوری میں ایک معاہدی عمل مکمل ہونے کے بعد آئی ہے، جس کے تحت ٹک ٹاک کا امریکی کاروبار اس کی سابق چینی پیرنٹ کمپنی 'بائٹ ڈانس' (ByteDance) کے کنٹرول سے نکل گیا ہے۔

وزارت کے مطابق امریکی کمپنیوں نے ڈیٹا کی حفاظت اور ماضی کے سیکیورٹی تحفظات کو دور کرنے کے لیے بائٹ ڈانس کے بنائے گئے الگورتھم اور سائبر سیکیورٹی پروگرامز پر نظرثانی کی ہے۔

واضح رہے کہ ٹک ٹاک اور چینی حکومت ماضی میں امریکی حکام کے ان خدشات کو رد کرتے رہے ہیں جن میں صارف کے ڈیٹا کے غلط استعمال یا گمراہ کن بیانیے کی اشاعت کا الزام لگایا جاتا رہا تھا۔

صدر ٹرمپ نے ٹک ٹاک کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس ایپ نے 2024 کے انتخابات میں ان کی فتح میں مدد کی، جبکہ انہوں نے اس فروخت کی منظوری میں تعاون پر چینی صدر شی جن پنگ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!