4 hours ago
یوٹیوب سے پیسے کیسے کمائے جائیں؟ کمپنی نے نئی شرائط بتادیں
Webdesk
|
11 Aug 2026
لندن: دنیا کی مقبول ترین ویڈیو شیئرنگ سروس یوٹیوب سے دنیا بھر میں متعدد افراد اضافی آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ جی ہاں یوٹیوب ویڈیوز کے ذریعے پیسے کمانے کے خواہشمند افراد کے لیے ایک پرکشش پلیٹ فارم بن چکا ہے۔
اربوں افراد اس ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تخلیقی سوچ رکھنے والوں کے لیے یہ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے بہترین جگہ ہے۔
یوٹیوب پارٹنر پروگرام کا حصہ بن کر ہر فرد اس ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم سے پیسے کما سکتا ہے۔مگر اب بیشتر افراد کے لیے یوٹیوب سے پیسے کمانا آسان نہیں ہوگا کیونکہ کمپنی نے شرائط کو سخت کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ یوٹیوب monetization سے صارفین کو اشتہارات، چینل کی ممبرشپ، سپر چیٹ اور merchandise سے پیسے کمانے کا موقع ملتا ہے۔
ان فیچرز کو ان لاک کرنے کے لیے آپ کو یوٹیوب پارٹنر پروگرام (وائے پی پی) کا حصہ بننے کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کے لیے چند شرائط کو پورا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور اب انہیں پہلے سے زیادہ سخت کیا گیا ہے۔
پہلے اس پلیٹ فارم سے پیسے کمانے کے لیے ضروری تھا کہ صارفین کے چینل کے سبسکرائبرز کی تعداد ایک ہزار ہو جب کہ ان کی طویل ویڈیوز کو گزشتہ ایک سال کے دوران 4 ہزار گھنٹوں سے زائد بار دیکھا گیا ہو مگر اب اسے دوگنا بڑھا دیا گیا ہے۔
اب ایک سال کے دوران کم از کم 8 ہزار گھنٹوں تک ویڈیو دیکھے جانے کی صورت میں ہی آپ پارٹنر شپ پروگرام کا حصہ بن کر پیسے کما سکیں گے یا یوٹیوب شارٹس ویڈیوز کو گزشتہ 90 دن کے دوران 2 کروڑ سے زائد بار دیکھنا ضروری ہوگا۔
اس سے پہلے شارٹس سے کمانے کے لیے ایک کروڑ ویوز کی شرط تھی۔اس نئی تبدیلی کا اطلاق یکم فروری 2027 سے ہوگا اور گوگل نے بتایا کہ اس اپ ڈیٹ سے وہ صارفین متاثر نہیں ہوں گے جو پہلے ہی یوٹیوب پارٹنر پروگرام کا حصہ ہیں۔
یوٹیوب کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ مستقبل میں شارٹس ویڈیوز سے کمائی کے لیے صارفین کو 90 دن کے اندر ایک کروڑ ویوز کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہوگی۔
اگر ایسا نہ ہوسکا تو صارف پارٹنر پروگرام کا حصہ تو رہے گا اور طویل ویڈیوز سے پیسے کما سکے گا مگر شارٹس ویڈیوز سے آمدنی اسی وقت ممکن ہوگی جب ایک بار پھر ایک کروڑ ویوز حاصل ہوں گے۔
کمپنی کے مطابق ان تبدیلیوں کو اس لیے متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ یوٹیوب کے آگے بڑھنے کے عمل کی رفتار کو برقرار رکھا جاسکے، اب یوٹیوب پر روزانہ 200 ارب سے زائد شارٹس کو دیکھا جاتا ہے جبکہ صرف ٹی وی پر ہی ایک ارب گھنٹوں کے برابر ویڈیوز کو دیکھا جاتا ہے۔
Comments
0 comment