سندھ ہائیکورٹ نے حضرت داؤد پر بننے والی فلم پر پابندی کی درخواست مسترد کردی

سندھ ہائیکورٹ نے حضرت داؤد پر بننے والی فلم پر پابندی کی درخواست مسترد کردی

فلم میں ایسے نبی کو دکھایا گیا جن پر توحیدی مذاہب یقین رکھتے ہیں، درخواست
سندھ ہائیکورٹ نے حضرت داؤد پر بننے والی فلم پر پابندی کی درخواست مسترد کردی

ویب ڈیسک

|

8 Jan 2026

سندھ ہائی کورٹ نے اینیمیٹڈ بائبلی میوزیکل فلم ڈیوڈ پر پابندی لگانے سے متعلق درخواست مسترد کر دی ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ یہ فلم مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کر سکتی ہے، تاہم عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد درخواست کو بے بنیاد قرار دے دیا۔

یہ درخواست شہری عبدالرزاق کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں وفاقی حکومت، پیمرا، فلم سنسر بورڈ اور دیگر اداروں کو فریق بنایا گیا تھا۔ عدالت نے سماعت کے دوران کہا کہ درخواست میں اٹھائے گئے نکات قانونی بنیادوں پر پورا نہیں اترتے۔

عدالتی حکم میں بتایا گیا کہ درخواست گزار نے فلم کے ٹریلر کی بنیاد پر اعتراض اٹھایا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ فلم میں ایک ایسے نبی کی زندگی دکھائی گئی ہے جنہیں توحیدی مذاہب مانتے ہیں، اور اس اندازِ پیشکش کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا گیا۔

بینچ نے 2022 میں فلم جوائے لینڈ کے خلاف دائر اسی نوعیت کی درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی اخلاقی بنیادوں پر پابندی کی استدعا مسترد کی جا چکی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ جب کوئی فلم متعلقہ سنسر اداروں سے منظوری حاصل کر لے تو صرف ذاتی یا انفرادی خیالات کی بنیاد پر عدالتی مداخلت مناسب نہیں۔

سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں اظہارِ رائے کی آزادی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غیر ضروری پابندیاں تخلیقی صلاحیتوں اور سماجی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہیں، اس لیے عدالتیں ایسے معاملات میں احتیاط برتتی ہیں۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!