انسان کی خود غرضی کیسے ختم ہو؟ ماہرین نے طریقہ تلاش کرلیا
ویب ڈیسک
|
14 Feb 2026
سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ دماغ کے مخصوص حصوں کو ہلکی برقی رو دینے سے انسانوں میں وقتی طور پر خود غرضی کم کی جا سکتی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دماغی نیٹ ورکس اور دوسروں کے لیے ایثار کے جذبے کے درمیان واضح تعلق موجود ہے۔
یہ تحقیق یونیورسٹی آف زیورخ کے ماہرین نے کی، جس میں 44 رضاکاروں کو شامل کیا گیا۔ تجربے کے دوران شرکاء کو ایک رقم دی گئی اور کہا گیا کہ وہ اس میں سے کچھ حصہ اپنے پاس رکھیں اور کچھ ایک اجنبی شخص کو دیں۔ اسی دوران محققین نے دماغ کے اگلے اور اوپری حصوں کو ہلکی برقی تحریک دی، جس کے نتیجے میں کئی افراد نے پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم دوسروں کو دینے کا فیصلہ کیا۔
تحقیق کے سربراہ پروفیسر کرسچین رف نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ اگرچہ تبدیلی بہت بڑی نہیں تھی، لیکن نتائج میں واضح تسلسل دیکھا گیا۔ ان کے مطابق اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ لوگوں میں دوسروں کے لیے خرچ کرنے کی خواہش میں اضافہ ہوا۔
یہ نتائج سائنسی جریدے PLoS Biology میں شائع ہوئے، جن سے انسانی رویوں کے پس پردہ دماغی نظام کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس طریقہ کار کو ایسے دماغی امراض کے علاج میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جن میں سماجی رویہ متاثر ہوتا ہے۔
تحقیق میں شامل ایک اور محقق جیے ہو، جو ایسٹ چائنا نارمل یونیورسٹی سے وابستہ ہیں، کا کہنا تھا کہ اس تجربے سے پہلی بار واضح ہوا ہے کہ دماغی نیٹ ورک میں تبدیلی لا کر انسان کے فیصلوں پر اثر ڈالا جا سکتا ہے۔
رضاکاروں میں سے ایک شخص نے اس کیفیت کو ہلکی بارش یا گرم پانی کے احساس سے تشبیہ دی اور کہا کہ اسے ایسا محسوس نہیں ہوا کہ اس کے فیصلے پر کوئی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس تجربے کا اثر وقتی تھا، تاہم مستقل تبدیلی کے لیے اس عمل کو بار بار دہرانا ضروری ہوگا، بالکل اسی طرح جیسے جسمانی ورزش سے وقت کے ساتھ جسم میں تبدیلی آتی ہے۔
Comments
0 comment