عمران خان کا 35 بار ڈاکٹر نے معائنہ کیا ہے، رانا ثنا اللہ
ویب ڈیسک
|
13 Feb 2026
سینیٹ نے جمعے کے روز بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی صحت سے متعلق پیش کی گئی قرارداد مسترد کر دی، جس کے بعد ایوان میں اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج دیکھنے میں آیا۔
قرارداد پی ٹی آئی کے سینیٹر عون عباس بپی نے پیش کی تھی، جس کی حکومت نے مخالفت کی۔ قرارداد کی منظوری نہ ملنے پر پی ٹی آئی کے سینیٹرز چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے اور نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاج کیا۔
ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے حکومتی نمائندے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر عمران خان کی صحت پر بات کرنا چاہتے ہیں، تاہم اگر یہی معاملہ زیرِ بحث لانا تھا تو اس کے لیے الگ قرارداد لانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں جیل میں بانی پی ٹی آئی کو دی جانے والی سہولیات کی وضاحت موجود ہے، اور فرینڈ آف دی کورٹ سلمان صفدر کے مطابق عمران خان سیکیورٹی انتظامات پر مطمئن ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ جیل کا ڈاکٹر ہر دوسرے دن عمران خان کا معائنہ کرتا ہے جبکہ اب تک بیرونی ڈاکٹروں کی جانب سے 25 مرتبہ طبی معائنے کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ نے فرینڈ آف دی کورٹ بھی مقرر کر رکھا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بینائی کا اچانک ختم ہونا معمولی بات نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو طبی معائنے کیے گئے وہ ماہر ڈاکٹروں نے نہیں کیے، اور نہ ہی عمران خان کے وکلا یا اہل خانہ کو اس بارے میں بروقت آگاہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سیاستدان ہی وہ طبقہ ہے جسے جیلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ جرنیل، بیوروکریٹس اور ججز اس صورتحال سے محفوظ رہتے ہیں۔ علامہ ناصر عباس نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے غفلت برتنے کے الزامات بھی عائد کیے۔
Comments
0 comment