بجٹ میں سولر پینلز، اسٹیشنری اور اسٹاک مارکیٹ ٹیکس برقرار رکھنے کا فیصلہ

بجٹ میں سولر پینلز، اسٹیشنری اور اسٹاک مارکیٹ ٹیکس برقرار رکھنے کا فیصلہ

سولر پینلز پرسیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز واپس لے لی گئی
بجٹ میں سولر پینلز، اسٹیشنری اور اسٹاک مارکیٹ ٹیکس برقرار رکھنے کا فیصلہ

Webdesk

|

11 Jun 2026

اسلام آباد:  وفاقی بجٹ میں سولر پینلز، اسٹیشنری اشیا اور اسٹاک مارکیٹ پر عائد ٹیکسوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سولر پینلز پرسیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز واپس لے لی گئی جبکہ اسٹیشنری اشیا پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی مجوزہ تجویز بھی بجٹ کا حصہ نہیں بنے گی۔

 ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی 2026 سے اسٹاک مارکیٹ پر نافذ ٹیکسوں میں بھی کوئی ردوبدل نہیں کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق تنخواہ دار طبقے کے لیے سب سے بلند انکم ٹیکس سلیب کی حد میں اضافہ کیے جانے کا امکان ہے جبکہ زیادہ آمدن رکھنے والے افراد پر عائد اضافی سرچارج یا جرمانہ ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

اسی طرح برآمد کنندگان کے لیے ریلیف پیکیج کے تحت ایک فیصد ایکسپورٹ ٹیکس ختم کیے جانے کا بھی امکان ہے۔ ٹیکس حکام کے مطابق حکومت بجٹ میں برآمدی شعبے کے لیے خصوصی اقدامات کا اعلان کرسکتی ہے۔

 واضح رہے کہ فنانس ایکٹ 2024 کے تحت برآمد کنندگان کو فائنل ٹیکس رجیم سے نکال کرنارمل ٹیکس رجیم میں منتقل کیا گیا تھاجس کے نتیجے میں ایک فیصد ٹرن اوور ٹیکس کی جگہ برآمدی آمدن پر کم از کم 2 فیصد ٹیکس نافذ کیا گیا جس میں ایک فیصد کم از کم ٹیکس اور ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس شامل ہے۔

صنعتی و برآمدی حلقوں نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ فائنل ٹیکس رجیم کو ایک فیصد ٹرن اوور ٹیکس کے ساتھ اختیاری بنیادوں پر بحال کیا جائے، سیلز ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے اور خسارے کا سامنا کرنے والے برآمد کنندگان کو مناسب ٹیکس ریلیف فراہم کیا جائے۔

علاوہ ازیں نارمل ٹیکس رجیم میں رہنے والوں کو ایف بی آر کی غیر ضروری کارروائیوں سے تحفظ دینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جائے۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!