15 hours ago
5 اگست 2019: مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے 7 برس
ویب ڈیسک
|
5 Aug 2026
ہر سال 5 اگست کو پاکستان اور مختلف کشمیری تنظیمیں "یومِ استحصال" مناتی ہیں۔ یہ دن 2019 میں بھارتی حکومت کی جانب سے آئین کی دفعہ 370 اور 35 اے کے خاتمے کی یاد دلاتا ہے، جس کے بعد جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی گئی اور ریاست کو دو وفاق کے زیر انتظام علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کر دیا گیا۔
اس فیصلے نے نہ صرف جنوبی ایشیا کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے بلکہ وادی کشمیر کے سماجی، معاشی اور انسانی حقوق کی صورتحال بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔
بھارتی حکومت نے ان اقدامات کو پاکستان، کشمیری قیادت اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پر شدید اعتراضات اٹھائے۔
فیصلے کے اعلان سے پہلے ہی وادی کشمیر میں ہزاروں اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔ متعدد کشمیری سیاسی رہنماؤں کو نظر بند یا حراست میں لیا گیا، موبائل فون، لینڈ لائن اور انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی گئیں، جبکہ کئی علاقوں میں نقل و حرکت پر سخت پابندیاں نافذ رہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ مواصلاتی پابندیاں جدید تاریخ کی طویل ترین سرکاری انٹرنیٹ بندشوں میں شمار ہوتی ہیں، جنہوں نے صحت، تعلیم، تجارت اور روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا۔
انسانی حقوق
ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹس میں کہا کہ وسیع پیمانے پر مواصلاتی پابندیاں، سیاسی رہنماؤں کی نظربندیاں، اظہارِ رائے پر قدغن اور نقل و حرکت کی پابندیاں بنیادی انسانی حقوق سے متعلق سنگین سوالات اٹھائے۔
معیشت کو کتنا نقصان پہنچا؟
معاشی نقصان نسبتاً بہتر انداز میں دستاویزی شکل میں سامنے آیا۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تخمینے کے مطابق مواصلاتی بندش اور پابندیوں کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران کشمیر کی معیشت کو تقریباً 2.4 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا جبکہ تقریباً پانچ لاکھ افراد کے روزگار متاثر ہوئے۔ سیاحت، دستکاری، قالین سازی، سیب کی صنعت اور چھوٹے کاروبار سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
تعلیم اور صحت پر اثرات
طویل انٹرنیٹ بندش نے تعلیمی نظام کو شدید متاثر کیا۔ طلبہ آن لائن تعلیم سے محروم رہے، امتحانات متاثر ہوئے اور تحقیق و تدریس میں رکاوٹیں آئیں۔
صحت کے شعبے میں بھی ڈاکٹروں اور مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مواصلاتی نظام معطل ہونے سے ایمرجنسی رابطے، ادویات کی فراہمی اور طبی مشاورت متاثر ہوئی۔
آبادیاتی تبدیلیوں کا تنازع
آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد ڈومیسائل اور زمین سے متعلق قوانین میں تبدیلیاں کی گئیں۔
کشمیری سیاسی جماعتوں اور ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان اقدامات سے خطے کی آبادیاتی ساخت تبدیل ہو سکتی ہے، جبکہ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد سرمایہ کاری، ترقی اور تمام شہریوں کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔
عالمی ردعمل
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین، یورپی پارلیمنٹ کے بعض ارکان اور متعدد بین الاقوامی تنظیموں نے مختلف اوقات میں کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور مواصلاتی پابندیوں، سیاسی گرفتاریوں اور بنیادی آزادیوں کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ تاہم بھارت نے مسلسل مؤقف اختیار کیا کہ جموں و کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے اور اٹھائے گئے اقدامات آئین اور قانون کے مطابق ہیں۔
Comments
0 comment