5 hours ago
انڈونیشیا کے علمائے کا فتویٰ : مخالف جنس کا لباس پہننا 'حرام' قرار
Webdesk
|
11 Aug 2026
انڈونیشیا کی بااثر اسلامی تنظیم علما کونسل (ایم یو آئی) نے یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران مردوں کو خواتین کا لباس پہننے سے خبردار کرتے ہوئے اسے حرام قرار دے دیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں ایل جی بی ٹی کی مخالفت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
انڈونیشین علما کونسل نے ایک بیان میں کہا کہ مردوں کا خواتین کا لباس پہننا شریعت اور سماجی اصولوں کی خلاف ورزی کا باعث بن رہا ہے۔ کونسل نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد لیسبین، گے، سوڈومی اور فحاشی (ایل جی ایس پی) کی تحریک کی مبینہ خفیہ مہم کو روکنا ہے۔
کونسل ایل جی بی ٹی کی اصطلاح کے متبادل کے طور پر LGSP کا استعمال کرتی ہے۔انڈونیشیا میں ہر سال 17 اگست کو 1945 میں نوآبادیاتی دور کے خاتمے اور آزادی کے اعلان کی مناسبت سے مختلف تقریبات اور کھیلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
ملک کے مختلف علاقوں میں رسہ کشی، بوری ریس، کریکر کھانے کے مقابلے، چکنے کھمبوں پر چڑھنے اور رنگا رنگ پریڈ سمیت مختلف سرگرمیاں منعقد ہوتی ہیں۔کچھ علاقوں میں مرد خواتین کے کپڑے اور حجاب پہن کر فٹبال بھی کھیلتے ہیں۔ اس روایت کو عام طور پر مزاحیہ سرگرمی سمجھا جاتا ہے اور اسے صنفی شناخت کے اظہار کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔
بعض مقامات پر مرد آزادی کی پریڈ میں شرکت کے لیے بھی خواتین کا لباس پہنتے ہیں۔
تاہم گزشتہ ہفتے جاری کیے گئے بیان میں علما کونسل کے فتوی کمیشن نے کہا کہ مردوں کا خواتین کا لباس پہننا جیسے گمراہ کن اقدامات شریعت اور سماجی اصولوں کی خلاف ورزی کا سبب بن رہے ہیں۔ کونسل نے خواتین کے مردوں کا لباس پہننے پر بھی اسی نوعیت کا مقف اختیار کیا ہے۔
Comments
0 comment