انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا زلزلہ، متعدد ہلاک

انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا زلزلہ، متعدد ہلاک

انڈونیشیا کے ساحل کے قریب آج صبح شدید زلزلہ آیا
انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا زلزلہ، متعدد ہلاک

Webdesk

|

15 Aug 2026

 انڈونیشیا کے ساحل کے قریب 7.7 شدت کا زلزلہ آ گیا، آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے، 20 افراد جاں بحق ہو گئے۔

انڈونیشیا کے ساحل کے قریب آج صبح شدید زلزلہ آیا، جس کے بعد کئی آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے، جن میں ایک کی شدت 6.1 ریکارڈ کی گئی۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 7.7 ریکارڈ کی گئی، زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 4:58 بجے تقریبا 15 کلومیٹر گہرائی میں آیا، انڈونیشیا کی جیو فزکس ایجنسی نے ابتدائی طور پر سونامی کی وارننگ جاری کی گئی، تاہم زلزلیکے 3 گھنٹے بعد سونامی کی وارننگ واپس لیلی گئی۔

دوسری جانب آسٹریلیا کے سونامی وارننگ سینٹر نے کہا ہے کہ سمندر کے اندر آنے والے اس زلزلے سے آسٹریلوی سرزمین، جزائر یا علاقوں کو سونامی کا کوئی خطرہ نہیں۔

انڈونیشیا کے علاقے مامیرے میں امدادی ٹیمیں تباہ شدہ عمارتوں میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے کام کر رہی ہیں، اب تک چار افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم دور افتادہ اور پہاڑی علاقے میں نقصان کی مکمل نوعیت جاننے میں وقت لگ سکتا ہے۔زلزلے کے باعث جزیر فلورس کے مرکزی شہر مامیرے میں لوگ گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے۔

بندرگاہ سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹرمینل کی عمارت سے کنکریٹ کے بڑے بڑے ٹکڑے ٹوٹ کر وہاں گرے جہاں بین الجزائر فیری پر سوار ہونے کے منتظر مسافر موجود تھے۔ جہاز تک پہنچنے والا راستہ گرنے سے کچھ افراد سمندر میں جا گرے۔

قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس وقت ترجیح عوام کی حفاظت اور آفٹر شاکس یا دیگر خطرات کے باعث مزید جانی نقصان کو روکنا ہے۔

ادارے نے لوگوں کو پرسکون رہنے اور ساحلی علاقوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ لوگوں کو عمارتوں میں داخل ہونے سے بھی گریز کرنا چاہئے، خاص طور پر ایسی عمارتوں میں جن میں پہلے ہی دراڑیں پڑ چکی ہوں یا جن کی ساخت کو نقصان پہنچا ہو۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں اور نقصان کے حجم کا تعین کرنے کے لیے فوری جائزہ لیا جا رہا ہے اور معلومات کی تصدیق کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!