7 hours ago
سعودی عرب کا بین الاقوامی بحری دفاعی اتحاد بنانے کا اعلان، پاکستان سمیت 14 ممالک کی حمایت
Webdesk
|
31 Jul 2026
جدہ: سعودی عرب کی وزارت دفاع کے زیر اہتمام جمعرات، 30 جولائی کو 43 ممالک کے سربراہانِ افواج، ان کے نمائندوں اور یورپی یونین کے وفد کا اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کے تحفظ اور سمندری سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے مجوزہ کثیر القومی میری ٹائم دفاعی اتحاد کے قیام پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں مجموعی طور پر 51 ممالک اور تنظیموں کو دعوت دی گئی تھی جن میں سے 43 ممالک نے بالمشافہ یا ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اجلاس میں تجارتی جہازوں، تیل بردار ٹینکروں اور سمندری تنصیبات پر بڑھتے حملوں، عالمی تجارتی راستوں، سپلائی چینز اور بین الاقوامی معیشت کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیامشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
شرکا نے اتحاد کے مجوزہ چارٹر، تنظیمی ڈھانچے، کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام، آپریشنل طریقہ کار اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔اس اتحاد کا مقصد باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں مشترکہ سمندری خطرات سے مثر انداز میں نمٹنے کے لیے ایک مضبوط ادارہ جاتی فریم ورک قائم کرنا ہے ۔
اجلاس میں سعودی عرب کو اس اتحاد کا بانی، قائد ملک اور مستقل ہیڈکوارٹر کا میزبان مقرر کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا شرکا نے عالمی سطح پر سعودی عرب کے قائدانہ کردار پر اعتماد کا اظہار قرار دیا۔
اتحاد میں شمولیت کے خواہاں ممالک کے فوجی منصوبہ ساز آئندہ مرحلے میں چارٹر، تنظیمی ڈھانچے، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور دیگر تکنیکی امور کو حتمی شکل دینے کے لیے مشاورت جاری رکھیں گے تاکہ قومی قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد اتحاد کا باضابطہ آغاز کیا جا سکے۔
سعودی عرب نے واضح کیا کہ یہ اتحاد ایک کھلا بین الاقوامی دفاعی اقدام ہے،جس میں وہ تمام ممالک شامل ہو سکتے ہیں جو اس کے مقاصد اور اصولوں سے اتفاق رکھتے ہوں اجتماعی طور پر سمندری سلامتی، آزادانہ جہاز رانی اور عالمی تجارت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔
اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، ترکیہ، مصر، اردن، یمن، بنگلہ دیش، نائجیریا، سوڈان، جبوتی اور صومالیہ سمیت 14 ممالک نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیاکثیر القومی میری ٹائم دفاعی اتحاد کے قیام کی حمایت کا اعلان کیا۔
جبکہ دیگر شریک ممالک نے بھی اس اقدام میں شامل ہونے کے عزم کا اظہار کیا شرکا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اتحاد کے قیام کے لیے بقیہ مراحل جلد مکمل کیے جائیں گے تاکہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں، عالمی تجارت اور علاقائی و عالمی سلامتی کے تحفظ کے لیے مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مزید مثر بنایا جا سکے۔
Comments
0 comment