4 hours ago
سولر اور چپس کے شعبوں میں چین کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹرمپ کا منصوبہ تیار
Webdesk
|
7 Aug 2026
واشنگٹن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے معاشی مقابلے کے تناظر میں سولر اور سیمی کنڈکٹر صنعت سے متعلق نئی تجارتی پالیسیاں متعارف کرا دی ہیں۔
وائٹ ہاس کی جانب سے جاری اعلان کے مطابق پولی سلیکون اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات پر نئی درآمدی شرائط اور 15 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ یہ اقدامات 4 دسمبر سے نافذ ہوں گے۔
پولی سلیکون انتہائی خالص سلیکون کی ایک قسم ہے جو سیمی کنڈکٹر چپس اور سولر پینلز کی تیاری میں بنیادی خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ دنیا میں اس کی زیادہ تر پیداوار چین میں ہوتی ہے، جس کی وجہ سے امریکا طویل عرصے سے اس شعبے میں درآمدات پر انحصار کرتا رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاس کا کہنا ہے کہ ان نئے اقدامات کا مقصد امریکا میں پولی سلیکون، سیمی کنڈکٹرز اور سولر مصنوعات کی مقامی پیداوار کو فروغ دینا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت، توانائی اور قومی سلامتی سے متعلق اہم صنعتوں میں ملک کی سپلائی چین مضبوط بنائی جا سکے۔
امریکی حکومت کے مطابق اس سے مقامی صنعت کو عالمی مسابقت میں بہتر موقع ملے گا۔امریکی سولر صنعت کئی برسوں سے چینی کمپنیوں پر الزام لگاتی رہی ہے کہ وہ حکومتی سبسڈی کی مدد سے سستے داموں سولر مصنوعات عالمی منڈی میں فروخت کرتی ہیں، جبکہ بعض کمپنیوں نے امریکی ٹیرف سے بچنے کے لیے اپنی پیداوار دوسرے ممالک منتقل کر دی ہے۔
چین کی جانب سے ان الزامات پر اس اعلان میں کوئی ردعمل شامل نہیں تھا۔اس وقت امریکا میں پولی سلیکون تیار کرنے والی صرف دو بڑی فیکٹریاں موجود ہیں۔ ان میں مشی گن میں واقع ہیملوک سیمی کنڈکٹر اور ٹینیسی میں واکر کیمی کی فیکٹری شامل ہیں۔
ہیملوک سیمی کنڈکٹر نے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکا میں سرمایہ کاری اور مقامی پیداواری صلاحیت میں مزید اضافہ ہوگا۔
دوسری جانب واکر کیمی نے کہا کہ وہ ان نئے اقدامات کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔ماہرین کے مطابق سیمی کنڈکٹر صنعت کو پولی سلیکون کی مسلسل فراہمی کے لیے مضبوط سولر صنعت کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ پولی سلیکون کی مجموعی طلب کا بڑا حصہ سولر سیکٹر سے آتا ہے۔
Comments
0 comment