حکومت نے صنعتوں کو ریلیف دے کر گھریلو صارفین پر بے تحاشہ بوجھ ڈال دیا

حکومت نے صنعتوں کو ریلیف دے کر گھریلو صارفین پر بے تحاشہ بوجھ ڈال دیا

نیپرا نے عوامی سماعت کر کے فیصلہ جاری کردیا
حکومت نے صنعتوں کو ریلیف دے کر گھریلو صارفین پر بے تحاشہ بوجھ ڈال دیا

ویب ڈیسک

|

11 Feb 2026

حکومت نے منگل کے روز اعتراف کیا کہ صنعتی شعبے کو عالمی مسابقت کے قابل بنانے کے لیے پہلی بار کراس سبسڈی کے بوجھ سے مکمل طور پر آزاد کر دیا گیا ہے، تاہم اس فیصلے کا مالی بوجھ گھریلو صارفین پر پہلے سے زیادہ پڑنے کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔

نیپرا میں صنعتی صارفین کے لیے اوسطاً 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ بجلی سستی کرنے اور گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کرنے سے متعلق عوامی سماعت ہوئی، جس کی صدارت پی ٹی ڈی کے جنرل منیجر شوکت علی نے کی۔ سماعت میں صنعتی نمائندوں، پاور ڈویژن اور نیپرا حکام نے اس اقدام کو دیرینہ مطالبہ قرار دیتے ہوئے “درست سمت میں پہلا قدم” کہا، تاہم 2 کروڑ 85 لاکھ سے زائد گھریلو صارفین کی جانب سے کوئی نمائندگی موجود نہیں تھی۔

پاور ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹری محفوظ بھٹی اور پاور پلاننگ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (پی پی ایم سی) کے چیف فنانشل آفیسر نوید قیصر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب گھریلو صارفین سے فکسڈ چارجز فی کنکشن کے بجائے فی کلوواٹ منظور شدہ لوڈ کے حساب سے وصول کیے جائیں گے۔ یہ رقم 200 سے 675 روپے فی کلوواٹ ماہانہ ہوگی، چاہے بجلی کا استعمال کم ہو یا زیادہ۔

مثال کے طور پر اگر کسی صارف کا منظور شدہ لوڈ 2 کلوواٹ ہے تو اسے 200 روپے فی کلوواٹ کے حساب سے 400 روپے ماہانہ فکسڈ چارج ادا کرنا ہوں گے، جبکہ 6 کلوواٹ لوڈ پر 675 روپے فی کلوواٹ کے حساب سے 4 ہزار 50 روپے ماہانہ فکسڈ چارجز بنیں گے۔

نوید قیصر کے مطابق یہ پہلی بار ہوگا کہ صارفین پر دو حصوں پر مشتمل ٹیرف نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ سالانہ 2.56 کھرب روپے کی کیپیسٹی لاگت پوری کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ صنعتی شعبے کو دی جانے والی کراس سبسڈی ختم کرنے سے صارفین کو 101 ارب روپے کا ریلیف ملے گا، لیکن فکسڈ چارجز کی وصولی 223 ارب روپے سے بڑھ کر 355 ارب روپے تک پہنچ جائے گی، جو 132 ارب روپے کا اضافہ ہے۔ اس میں 18 فیصد جی ایس ٹی اور دیگر ٹیکس شامل نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ فکسڈ چارجز سے حاصل ہونے والے تقریباً 31 ارب روپے ان صارفین کے ویری ایبل ٹیرف میں کمی کے لیے استعمال ہوں گے جو ماہانہ 300 یونٹس سے زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں، تاکہ وہ نیشنل گرڈ سے منسلک رہیں، جبکہ باقی 101 ارب روپے صنعتی شعبے کا بوجھ کم کرنے میں صرف کیے جائیں گے۔

ایڈیشنل سیکریٹری محفوظ بھٹی کے مطابق صنعتی بجلی کا ٹیرف اب تقریباً 13 سینٹ فی یونٹ سے کم ہو کر 11.50 سینٹ رہ جائے گا، جو خطے کے بعض ممالک سے اب بھی زیادہ ہے، تاہم کراس سبسڈی کا عنصر ختم کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب مالیاتی مشاورتی ادارے آپٹیمس کیپٹل مینجمنٹ کی جانب سے جاری تخمینوں کے مطابق فکسڈ چارجز کے نفاذ سے محفوظ (پروٹیکٹڈ) صارفین کے لیے 1 سے 100 یونٹس تک اوسط بجلی قیمت میں 76 فیصد یا تقریباً 8 روپے فی یونٹ اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ 101 سے 200 یونٹس والے سلیب میں 4 روپے فی یونٹ (31 فیصد) اضافہ متوقع ہے۔

غیر محفوظ (نان پروٹیکٹڈ) صارفین کے لیے 100 یونٹس تک بجلی کی اوسط قیمت میں 16 روپے 50 پیسے فی یونٹ (74 فیصد) اضافہ جبکہ 101 سے 200 یونٹس کے سلیب میں تقریباً 6 روپے فی یونٹ (21 فیصد) اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام صنعتی شعبے کے لیے تو ریلیف کا باعث بن سکتا ہے، تاہم گھریلو صارفین کے ماہانہ بجلی بلوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس پر عوامی ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!