سندھ میں رواں سال کے 8 ماہ میں خسرہ، خناق سے 88 بچوں کی اموات

سندھ میں رواں سال کے 8 ماہ میں خسرہ، خناق سے 88 بچوں کی اموات

خسرے کے 8 ہزار 32 مشتبہ کیسز سامنے آئے، جن میں سے 3 ہزار 123 کی تصدیق ہوئی
سندھ میں رواں سال کے 8 ماہ میں خسرہ، خناق سے 88 بچوں کی اموات

ویب ڈیسک

|

26 Aug 2026

کراچی: سندھ میں رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران خسرہ، خناق اور تشنج کے باعث 88 بچوں کی اموات رپورٹ ہوئی ہیں، جبکہ ہزاروں بچے ان بیماریوں کا شکار ہوئے۔

سندھ محکمہ صحت اور عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 4 جنوری سے 8 اگست 2026 تک صوبے میں خسرے کے 8 ہزار 32 مشتبہ کیسز سامنے آئے، جن میں سے 3 ہزار 123 کی تصدیق ہوئی۔ اس دوران خسرے کے 53 پھیلاؤ کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے جو سندھ کے 15 اضلاع میں رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق خسرے سے 63، خناق سے 20 اور تشنج سے 5 بچے جان کی بازی ہار گئے۔ خناق کے 57 جبکہ تشنج کے 20 کیسز بھی رپورٹ ہوئے۔

بچوں کی اموات کے لحاظ سے خیرپور سرفہرست رہا، اس کے بعد دادو، لاڑکانہ، کراچی ایسٹ، سکھر، ٹھٹھہ، بدین، شکارپور اور مٹیاری شامل ہیں۔

اعداد و شمار میں ویکسینیشن کی صورتحال بھی تشویشناک قرار دی گئی ہے۔ تصدیق شدہ خسرہ کیسز میں 55 فیصد ایسے بچے تھے جن کی عمر 9 ماہ یا اس سے زیادہ تھی لیکن انہیں خسرے کی ویکسین کی ایک بھی خوراک نہیں ملی تھی۔

رپورٹ میں خسرہ ویکسینیشن مہمات کی کارکردگی سے متعلق ضلعی صحت افسران کے 100 فیصد کامیابی کے دعووں کا آزادانہ جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!