عوامی دباؤ پر حکومت نے نیٹ میٹرنگ سے متعلق فیصلہ واپس لے لیا

2 hours ago

عوامی دباؤ پر حکومت نے نیٹ میٹرنگ سے متعلق فیصلہ واپس لے لیا

یہ اعلان وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران کیا
عوامی دباؤ پر حکومت نے نیٹ میٹرنگ سے متعلق فیصلہ واپس لے لیا

ویب ڈیسک

|

12 Feb 2026

حکومت نے سخت عوامی ردِعمل کے بعد نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ نظام میں منتقلی کے فیصلے پر وقتی طور پر عملدرآمد روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ اعلان وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران کیا۔

ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت ملک میں چار لاکھ چھیاسٹھ ہزار سے زائد صارفین نیٹ میٹرنگ سسٹم سے منسلک ہیں، جو اپنی لگائی گئی سرمایہ کاری پر سالانہ تقریباً پچاس فیصد تک منافع حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض صارفین پانچ روپے فی یونٹ لاگت سے بجلی پیدا کر کے قومی گرڈ کو ستائیس روپے فی یونٹ میں فروخت کر رہے ہیں۔

اویس لغاری نے خبردار کیا کہ اگر حکومت موجودہ نظام کے تحت بجلی کی خریداری جاری رکھتی ہے تو اس کا بوجھ باقی نوّے فیصد صارفین پر پڑے گا اور بجلی کی قیمت میں دو سے ڈھائی روپے فی یونٹ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ بلنگ نظام کی صورت میں سولر صارفین کا منافع کم ہو کر سینتیس فیصد تک آ جائے گا، جبکہ عام صارفین کے لیے بجلی ایک سے ڈیڑھ روپے فی یونٹ سستی ہونے کا امکان ہے۔

 

وفاقی وزیر نے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ نیٹ میٹرنگ کے قواعد میں ریگولیٹر اب تک پانچ مرتبہ تبدیلیاں کر چکا ہے۔ ان کے مطابق چھ سے سات ہزار بڑے سولر صارفین میں سے تقریباً 2200 میگاواٹ صلاحیت صنعتوں نے نصب کی ہے اور زیادہ تر سسٹمز پوش علاقوں میں لگائے گئے ہیں، جس سے محدود طبقہ زیادہ فائدہ اٹھا رہا ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران حکومت نے 780 ارب روپے کا گردشی قرضہ کم کیا ہے، جبکہ ایک بااثر خاندان سے منسلک آئی پی پی معاہدے میں بھی 100 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی۔ اویس لغاری کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے توانائی کے شعبے میں وہ اصلاحات کی ہیں جو ماضی میں ممکن نہیں ہو سکیں۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!