بنگلادیش انتخابات، بی این پی نے دو تہائی اکثریت حاصل کرلی
ویب ڈیسک
|
13 Feb 2026
بنگلہ دیش میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) واضح برتری کے ساتھ کامیاب ہو گئی ہے۔ مقامی ٹی وی چینلز کے مطابق بی این پی کی قیادت میں بننے والے اتحاد نے قومی اسمبلی میں فیصلہ کن اکثریت حاصل کر لی ہے۔
جمعرات کو ہونے والے یہ انتخابات 2024 کی نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد ملک کے پہلے قومی انتخابات تھے۔
انتخابی نتائج کو بنگلہ دیش جیسے 17 کروڑ 50 لاکھ آبادی والے مسلم اکثریتی ملک کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا تھا، جہاں گزشتہ کئی ماہ کے دوران شدید احتجاج اور تشدد نے معمولاتِ زندگی اور معیشت کو متاثر کیا، خصوصاً ملبوسات کی صنعت کو جو ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔
جامونا ٹی وی کے مطابق 300 رکنی جاتیہ سنگساد میں بی این پی اتحاد نے 209 نشستیں حاصل کر کے دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔ انتخابی نتائج ابتدائی سرویز کے عین مطابق سامنے آئے، جن میں بی این پی کو برتری حاصل دکھائی جا رہی تھی۔
نتائج کی تصدیق کے بعد بی این پی نے ووٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جمعے کے روز ملک کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے اجتماعی دعاؤں کی اپیل کی۔
پارٹی نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ فتح کے جلوس نکالنے کے بجائے مساجد، مندروں، گرجا گھروں اور عبادت گاہوں میں دعاؤں کا اہتمام کریں۔
بی این پی کی قیادت سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کے صاحبزادے اور سابق صدر ضیاء الرحمان کے بیٹے، 60 سالہ طارق رحمان کر رہے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران پارٹی نے کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مالی معاونت، وزیراعظم کی مدت کو 10 سال تک محدود کرنے، غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے معاشی ترقی اور بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات کا وعدہ کیا تھا۔
جماعت اسلامی کی قیادت میں قائم اتحاد 68 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہا، تاہم جماعت اسلامی نے انتخابی عمل اور نتائج پر اطمینان کا اظہار نہیں کیا۔
نوجوان کارکنوں پر مشتمل نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی)، جو شیخ حسینہ مخالف تحریک میں سرگرم رہی، 30 میں سے 5 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
یہ انتخابات کئی برسوں بعد ملک کے سب سے زیادہ مقابلے والے انتخابات سمجھے جا رہے ہیں۔ سابق حکمران جماعت عوامی لیگ، جو 15 سال سے زائد عرصے تک اقتدار میں رہی، کو ان انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔
ذرائع کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ 60 فیصد سے تجاوز کر گیا، جو 2024 کے انتخابات میں 42 فیصد تھا۔ انتخابات میں 50 سے زائد سیاسی جماعتوں اور 2 ہزار سے زیادہ امیدواروں نے حصہ لیا، جب کہ ایک حلقے میں امیدوار کے انتقال کے باعث ووٹنگ ملتوی کر دی گئی۔
Comments
0 comment