حکومت کی آئی ایم ایف کو گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی یقین دہانی

حکومت کی آئی ایم ایف کو گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی یقین دہانی

حکومتی حکام نے واضح کیا کہ نیپرا کی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹس اور ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹس بدستور بروقت نافذ کیے جاتے رہیں گے
حکومت کی آئی ایم ایف کو گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی یقین دہانی

Webdesk

|

15 May 2026

حکومت اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان نئے مالی سال کے بجٹ اور توانائی شعبے سے متعلق اہم مذاکرات جاری ہیں، جن میں بجلی اور  گیس نرخوں، گردشی قرضے اور توانائی اصلاحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پروٹیکٹڈ صارفین کے علاوہ دیگر بجلی اور گیس صارفین کے لیے نرخوں میں اضافہ کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران حکام نے توانائی شعبے میں جاری اصلاحات، گردشی قرضے میں کمی اور آئندہ مالی اہداف پر آئی ایم ایف کو بریفنگ دی۔ حکومتی حکام نے واضح کیا کہ نیپرا کی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹس اور ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹس بدستور بروقت نافذ کیے جاتے رہیں گے، جبکہ عالمی توانائی قیمتوں کا بوجھ بھی صارفین تک منتقل کرنے کی پالیسی برقرار رکھی جائے گی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس ٹیرف میں باقاعدہ ردوبدل کے ذریعے لاگت کی مکمل وصولی جاری ہے، تاہم کمزور اور کم آمدن طبقے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی کا نظام برقرار رکھا جائے گا۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو یہ بھی آگاہ کیا کہ آئی پی پیز کے ساتھ جرمانہ ادائیگیوں اور بقایاجات سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور اس عمل کو جون 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں مسابقتی بجلی مارکیٹ کے قیام کے لیے پیشرفت جاری ہے اور توانائی اصلاحات کے نتیجے میں بجلی کے نظام کی کارکردگی بہتر ہونے اور نقصانات میں کمی کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ حکومت نے آڈٹ شدہ گیس گردشی قرضے کا جامع ڈیٹا بھی تیار کر لیا ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ بجلی کی طرح گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کی تفصیلات بھی سہ ماہی بنیادوں پر عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ مالی سال 2027 کے لیے گیس گردشی قرضہ مینجمنٹ پلان پر کام جاری ہے، جبکہ جنوری 2027 سے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کا فیصلہ مکمل طور پر نافذ العمل رہے گا۔ حکومت نے مالی سال 2027 کے دوران بجلی سبسڈی کو زیادہ سے زیادہ 830 ارب روپے تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 0.6 فیصد کے برابر ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سبسڈی ڈسکوز، کے الیکٹرک، فاٹا بقایاجات، زرعی ٹیوب ویلز اور سرکلر ڈیٹ کی ادائیگیوں کے لیے استعمال کی جائے گی۔ حکومت نے یہ ہدف بھی مقرر کیا ہے کہ مالی سال 2027 میں گردشی قرضے میں اضافے کو 300 ارب روپے تک محدود رکھا جائے، جبکہ مالی سال 2031 تک بجلی شعبے کا گردشی قرض مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔

ذرائع کے مطابق آئیسکو، گیپکو اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کی نجکاری کا عمل بھی تیز کیا جا رہا ہے اور اسے 2027 کے آغاز تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!