کراچی کی مخدوش عمارتوں کو فوری منہدم کرنے کا فیصلہ
ویب ڈیسک
|
2 Jan 2026
کراچی میں مخدوش اور خطرناک عمارتوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، تاہم حکومت نے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔
اس حوالے سے جمعرات کو صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت کمشنر کراچی کے دفتر میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ انتہائی خستہ حال اور غیر استعمال شدہ پرانی عمارتوں کو مرحلہ وار خالی کروا کر مسمار یا کھدائی کے عمل سے گزارا جائے گا، جبکہ متاثرہ مکینوں کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ اجلاس میں شریک حکام نے متاثرہ افراد کے لیے رہائشی متبادل فراہم کرنے کی بھی منظوری دی۔
کمشنر کراچی نے صوبائی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شہر میں موجود 588 خطرناک عمارتوں میں سے 471 کا تفصیلی سروے اسسٹنٹ کمشنرز مکمل کر چکے ہیں۔ ان میں سے 59 عمارتوں کو فوری طور پر خالی کروایا گیا ہے، جہاں رہائش پذیر افراد کی بحالی کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اجلاس میں متاثرہ خاندانوں کے لیے فلیٹس تعمیر کرنے کے فیصلے پر بھی اتفاق ہوا۔
صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے ہدایت دی کہ کراچی کی طرز پر حیدرآباد اور سکھر میں بھی خطرناک عمارتوں کا جامع سروے کیا جائے تاکہ کسی بڑے حادثے سے قبل اقدامات ممکن بنائے جا سکیں۔
دوسری جانب بدھ کے روز کینٹونمنٹ بورڈ کے احکامات پر صدر کے علاقے میں واقع سٹی ویو اپارٹمنٹس اور ایک اور مخدوش عمارت کی بجلی منقطع کر دی گئی تھی، کیونکہ دونوں عمارتوں کو رہائش کے لیے غیر محفوظ قرار دیا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے علاقے کا دورہ کیا، ایڈیشنل سی ای او کینٹونمنٹ بورڈ یمنا افضل سے ملاقات کی اور مکینوں کی جانب سے تحریری یقین دہانی کے بعد بجلی بحال کر دی گئی۔
اس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار نے عمارت کے رہائشیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 200 فلیٹ مالکان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی، جو مبینہ طور پر بلڈر کی ملی بھگت سے کی جا رہی ہے، کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے عمارت کی مرمت اور رہائشیوں کے مسائل کے حل میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
Comments
0 comment