خیبرپختونخوا میں دہشت گرد حملوں کو ناکام بنانے والے پولیس اہلکاروں میں انعامات تقسیم

آفتاب مہمند
|
18 Feb 2025
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع اور علاقوں میں دہشت گردوں کے حملوں اور منصوبے کو خاک میں ملانے والے پولیس اہلکاروں کو انعامات دیے گئے ہیں۔
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ اور انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے سینٹرل پولیس آفس پشاور میں منعقدہ ایک تقریب میں پشاور، مانسہرہ، کرک، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع کے پولیس افسران وجوانان کو دہشت گردوں ،ٹارگٹ کلرز، قتل و اقدام قتل، سنیچنگ، کار لفٹنگ، راہزنوں اور ڈکیتوں کے خلاف مختلف کارروائیوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر نقد انعامات اور توصیفی اسناد سے نوازا۔
تفصیلات کے مطابق کرک پولیس نے 6 فروری کی رات 12بجے پولیس چوکی بہادر خیل پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنایا۔ دہشت گرد ہلکے اور بھاری ہتھیاروں جن میں راکٹ لانچر اور ہینڈ گرنیڈ بھی شامل تھے سے لیس پولیس چوکی پر حملہ آور ہوئے تھے۔
حملے میں تین پولیس اہلکاروں نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا جبکہ 6اہلکار زخمی ہوئے تھے۔تین گھنٹے جاری رہنے والے اس مقابلے میں دہشتگردوں کی پسپائی ہوئی۔
پشاور پولیس نے کامیاب کارروائی میں ڈکیتی کے دوران اقدامات قتل کے خطرناک ملزم کو گرفتار کیا جبکہ ایک اور کارروائی میں پہاڑی پورہ کے علاقے میں سنیچنگ ، کارلفٹنگ اور اقدام قتل سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے ان سے مال مسروقہ بھی برآمد کیا۔
اسی طرح مانسہرہ پولیس نے کامیاب چھاپہ زنی کے دوران بد نام زمانہ اشتہاری ملزم صابر ولد گلستان کو گرفتار کیا جو قتل، اقدام قتل، ڈکیتی اور راہزنی کے متعدد کیسوں میں مطلوب تھا۔ بنوں پولیس نے تھانہ ٹاﺅن کے علاقے میں پولیس موبائل پر ہونے والا دہشت گردانہ حملہ ناکام بناتے ہوئے بہادری کا مظاہرہ کیا۔
اس حملے میں دو دہشت گرد جہنم واصل کئے گئے جبکہ ایک دہشت گرد کو بہترین حکمت عملی سے زندہ گرفتار کیا گیا۔اسی طرح لکی مروت پولیس نے بھی ڈکیتی کے دوران اقدام قتل کے ملزمان کا بھر پور تعاقب کرکے گرفتار کیاتھا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے انعام یافتہ گان کی پیشہ ورانہ کمٹمنٹ اور دن رات سخت کاوشوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس پچھلے دو عشروں سے دہشت گردوں کے خلاف جرات و بہادری کا پیکر بن کر ہر چیلنج کا سینہ تان کر اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کررہی ہے اور اس کی زندہ مثال گذشتہ شب شادی پور کوہاٹ میں پولیس سکواڈ کی گاڑی پر حملہ کرنے والے دہشت گرد کو ایک گھنٹے کے اندر اندر انجام تک پہنچانا ہے۔
چیف سیکرٹری نے کہا کہ ہماری مٹی بڑی زرخیز ہے اور یہاں کی غیور عوام اپنی مٹی پر مر مٹنے کے لیے ہر وقت تیار رہتی ہے اور بالخصوص خیبر پختونخوا پولیس کی خاصیت یہ ہے کہ وہ اپنی دھرتی کے دفاع کے لیے دشمنوں کو کرارہ جواب دیتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پہلے بھی پولیس کی لازوال قربانیوں کی بدولت دہشت گردی میں کمی واقع ہوئی تھی اور اُمید ظاہر کی کہ آئندہ بھی خیبر پختونخوا کی نڈر اور جری پولیس فورس دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینک کرصوبے کو امن کا گہوارہ بنائے گی۔ انہوں نے انعام یافتہ گان کو مبارکباد دی اور ان کی کامیابیوں اور کامرانیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
آئی جی پی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شرپسندوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کامیاب کارروائیاں پولیس کی پروایکٹیو پولیسنگ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں فورس کے جوانوں کو انعام دینے سے بے انتہا پیشہ ورانہ طمانیت اور خوشی ملتی ہے۔
آئی جی پی نے تمام انعام یافتہ گان بالخصوص کرک پولیس کی پولیس چوکی پر رات کی تاریکی میں دہشت گردوں کے حملے کو پسپا کرنے کی جرات و بہادری کو بے حد سراہا اور انعام یافتہ گان پر زور دیا کہ وہ ہر جگہ ہر واقعے میںدہشت گردوں کا حساب برابر کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔
اس موقع پر58پولیس افسران وجوانان کو بہترین کارکردگی پر نقد انعامات اور توصیفی اسناد سے نوازا گیا۔ایڈیشنل آئی جی پیز آپریشنزمحمد علی باباخیل، انوسٹی گیشن کاشف عالم اور ٹریننگ اختر عباس بھی اس موقع پر موجود تھے۔
Comments
0 comment