پاکستان کی سلامتی کی جنگ کسی فرد یا ادارے کی نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی مشترکہ ہے، ترجمان پاک فوج

پاکستان کی سلامتی کی جنگ کسی فرد یا ادارے کی نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی مشترکہ ہے، ترجمان پاک فوج

دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں جبکہ افغانستان بدستور خطے میں دہشت گرد عناصر کے لیے بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے، پریس کانفرنس
پاکستان کی سلامتی کی جنگ کسی فرد یا ادارے کی نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی مشترکہ ہے، ترجمان پاک فوج

Webdesk

|

6 Jan 2026

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی کی جنگ کسی فرد یا ادارے تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر نہ کھڑے ہوئے تو اس کے اثرات گھروں، بازاروں، دفاتر اور گلی محلوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف مسلسل جنگ لڑ رہا ہے اور اب ریاست اور عوام کے درمیان اس حوالے سے مکمل یکسوئی پیدا ہو چکی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں جبکہ افغانستان بدستور خطے میں دہشت گرد عناصر کے لیے بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں دہشت گردی کے لیے سازگار سیاسی ماحول اور جرائم پیشہ عناصر کا گٹھ جوڑ موجود ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ملک بھر میں 27 خودکش حملے ہوئے جن میں سے 16 خیبرپختونخوا میں، 10 بلوچستان میں جبکہ ایک واقعہ اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں پیش آیا۔ ان حملوں میں دو خودکش حملے خواتین نے کیے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کی شرح سب سے زیادہ رہی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہوں کا بلوچستان یا بلوچ شناخت سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ بیرونی ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ سیکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن میں سے 14 ہزار سے زائد خیبرپختونخوا جبکہ 58 ہزار سے زیادہ بلوچستان میں انجام دیے گئے۔ صرف گزشتہ سال 2 ہزار 597 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں 1 ہزار 235 اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔

انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر ملک میں ہونے والے دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں پیش آئے، تاہم ریاست دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے اور اس حوالے سے اہم اور مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بھارت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت خطے میں دہشت گرد گروہوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے اور انہیں اسلحہ اور مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جس کے شواہد سیکیورٹی اداروں کے پاس موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی سرپرستی میں افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کی جا رہی ہے، جو علاقائی امن کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے 10 بڑے واقعات میں بنوں کینٹ، جعفر ایکسپریس، نوشکی میں مسافر بس، خضدار میں اسکول بس، ایف سی اور پولیس تنصیبات، کیڈٹ کالج وانا اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔ ان تمام بڑے حملوں میں افغان دہشت گرد ملوث پائے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سرحدی نگرانی سخت کرنے اور بارڈر بند کرنے سے دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گرد جدید ٹیکنالوجی جیسے آرمڈ کواڈ کاپٹرز اور ڈرونز کا استعمال کر رہے ہیں، تاہم پاک فوج صرف دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہے، نہ کہ عام شہریوں کو۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ دہشت گرد بچوں اور خواتین کو ڈھال بنا کر کارروائیاں کرتے ہیں، مگر ریاستی ادارے مکمل احتیاط کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں اور یہ جنگ ہر صورت جیتی جائے گی۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!