سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح، ماہرین نے خبردار کردیا

سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح، ماہرین نے خبردار کردیا

بڑھتی ہوئی سمندری سطح سندھ کے ساحلی علاقوں میں بستیوں کے لیے خطرہ ہے
سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح، ماہرین نے خبردار کردیا

Webdesk

|

30 Nov 2025

 کراچی: موسمیاتی تبدیلی اور تعمیر شدہ ماحول پر آئی جی ایچ ڈی کی سالانہ کانفرنس اتوار کودوروزہ اعلی سطحی سائنسی پریزنٹیشنز، پالیسی مکالمے اور مشترکہ شعبہ جاتی تعاون کے بعد اختتام پذیر ہوگئی جس کا مقصد پاکستان کی موسمیاتی بحران کے مقابلے میں مزاحمت کو مضبوط بنانا تھا۔

آغا خان یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ (IGHD) نے اس کانفرنس کی میزبانی سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ سولوشنز نیٹ ورک (SDSN) پاکستان کے تعاون سے کی جس نے ماہرینِ تعمیرات، انجینئرنگ، ماحولیاتی سائنس، صحتِ عامہ، اربن پلاننگ اور پالیسی کو ایک ساتھ اکٹھا کیا تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں پاکستان خود کو کس طرح بہتر طور پر محفوظ رکھ سکتا ہے۔

کانفرنس کے دوران پریزنٹرز نے کراچی کے ساحل کے ساتھ بڑھتی ہوئی سمندر کی سطح کے نئے شواہد، سندھ سے موسمیاتی لچکدار گھروں کے نمونے، مقامی ڈیزائن حل، گرمی سے لچکدار صحت کے نظام اور کمزور طبقات کے لیے ڈیٹا پر مبنی موافقتی حکمت عملیوں کو پیش کیا۔

ان کے نتائج نے کمیونٹیز کو درپیش فوری خطرات اور عمل کے امکانات کی ایک تفصیلی تصویر پیش کی۔چیف گیسٹ ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی نے زور دیتے ہوئے کہا مستقبل اس حاضرین میں موجود نوجوانوں کے ساتھ ہے 20 اور 30 سال کی عمر کے لوگ جو خواب دیکھتے ہیں اور جن میں مایوسی نہیں جو یقین رکھتے ہیں کہ دنیا بدلی جا سکتی ہے۔

ہمیں انہیں موقع دینا ہوگا، جیسا کہ یونیورسٹیاں جیسے لمز، آغا خان یونیورسٹی اور جام شورو یونیورسٹی جو نئی ٹیکنالوجیز کے بارے میں علم اور آئیڈیاز رکھتی ہیں۔

 تحقیقی ماہرین نے خاص طور پر اجاگر کیا کہ بڑھتی ہوئی سمندری سطح سندھ کے ساحلی علاقوں میں بستیوں کے لیے خطرہ ہے۔ غیر منصوبہ بند بستیوں میں نمایاں موافقتی خلا موجود ہیں جو شدید گرمی، پانی کی قلت اور ناقص انفراسٹرکچر کا سامنا کرتی ہیں اور صحت کے نظام پہلے سے دبا میں ہیں جبکہ شواہد بڑھتی ہوئی موسمیاتی امراض اور محدود لچک کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ان انکشافات کے درمیان کئی امید افزا حل بھی سامنے آئے جن میں دیہی مکانات میں جدت شامل ہے مثلا زلزلہ اور گرمی سے لچکدار ڈیزائن جو مٹیاری اور اندرونِ سندھ میں آزمائشی بنیادوں پر تیار کیے گئے اور کمیونٹی کی قیادت میں موافقتی ماڈلز جنہوں نے ثابت کیا کہ جب مقامی تکنیک سائنسی شواہد کے مطابق ہم آہنگ کی جائیں تو وہ مثر ثابت ہوتی ہیں۔

پروفیسر ذوالفقار اے بھٹہ، بانی ڈائریکٹر آئی جی ایچ ڈی نے ثبوت پر مبنی تعاون کے مرکزی کردار پر زور دیتے ہوئے کہاگزشتہ دو دنوں میں شیئر کی گئی تحقیق یہ دکھاتی ہے کہ جب کمیونٹیز، سائنس دان اور پالیسی ساز مل کر کام کرتے ہیں تو کیا کچھ ممکن ہے۔ ہمارا اگلا ہدف اس ثبوت کو پورے پاکستان میں عملی شکل دینا ہے۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!