’یہ ختم ہوگیا‘ : فضیلہ قاضی کے بیٹے کا پرانے سیاستدانوں سے متعلق شائع کردہ آرٹیکل ڈیلیٹ

’یہ ختم ہوگیا‘ : فضیلہ قاضی کے بیٹے کا پرانے سیاستدانوں سے متعلق شائع کردہ آرٹیکل ڈیلیٹ

آرٹیکل ڈیلیٹ ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر زورین کی تحریر کے اسکرین شارٹ چل رہے ہیں
’یہ ختم ہوگیا‘ : فضیلہ قاضی کے بیٹے کا پرانے سیاستدانوں سے متعلق شائع کردہ آرٹیکل ڈیلیٹ

ویب ڈیسک

|

2 Jan 2026

اداکارہ فضیلہ قاضی اور قیصر خان نظامانی کے صاحبزادے زورین نظامانی اچانک سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئے ہیں، جب ان کا ایک کالم مبینہ طور پر ایک انگریزی اخبار کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق زورین نظامانی امریکا میں کریمنالوجی میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں، جن کا مضمون یکم جنوری کو شائع ہوا تھا جس کا عنوان “It is over” تھا۔

اس تحریر میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک کی پرانی قیادت نوجوان نسل سے کٹ چکی ہے اور اب نوجوان ان کے بیانیے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

مضمون میں زورین نے لکھا کہ اقتدار میں موجود بزرگ مرد و خواتین کا دور ختم ہو چکا ہے، کیونکہ نوجوان نسل محض تقاریر، سیمینارز اور حب الوطنی کے روایتی نعروں سے متاثر نہیں ہو رہی۔

ان کے بقول، تعلیمی اداروں میں اس طرز کی کوششیں بھی اب مؤثر ثابت نہیں ہو رہیں۔

کچھ ہی وقت بعد یہ مضمون اخبار کی ڈیجیٹل ویب سائٹ سے غائب ہو گیا، جس کے بعد اس کے اسکرین شاٹس ایکس (ٹوئٹر)، واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے وائرل ہو گئے۔

دو جنوری تک زورین نظامانی کا نام پاکستان میں ٹرینڈ کرنے لگا، جہاں ہزاروں صارفین نے ان کے خیالات کو نوجوانوں کی مایوسی کی حقیقی عکاسی قرار دیا۔

دوسری جانب فضیلہ قاضی نے اس معاملے پر انسٹاگرام کے ذریعے وضاحت جاری کی اور کہا کہ یہ تحریر کسی مخصوص ادارے یا گروہ کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں لکھی گئی بلکہ ایک عمومی اور کسی حد تک فرضی پس منظر میں نئی نسل کے نقطۂ نظر کو بیان کرتی ہے۔

ان کے مطابق مضمون کو اسی تناظر میں پڑھا جانا چاہیے۔ فضیلہ قاضی نے مزید واضح کیا کہ یہ تحریر نہ تو سیاست پر مبنی ہے اور نہ ہی اس کا مقصد کسی پر تنقید یا دل آزاری کرنا تھا۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!