1 hour ago
کراچی، گھر میں گھس کر ڈکیتوں کی فائرنگ سے 15 سالہ لڑکا جاں بحق، تدفین سے انکار
ویب ڈیسک
|
9 Sep 2026
کراچی: منگھوپیر کے علاقے مہران سٹی کے قریب گھر میں مبینہ طور پر داخل ہونے والے ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 15 سالہ لڑکا روشم خان جاں بحق ہوگیا، جس کے لواحقین کا ملزمان کی گرفتاری کے لیے منگھوپیر تھانے کے باہر احتجاج جاری ہے۔
مقتول کے والد نے اعلان کیا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری تک وہ اپنے بیٹے کی تدفین نہیں کریں گے۔ لواحقین کے مطابق روشم خان کی لاش گزشتہ 28 گھنٹوں سے منگھوپیر تھانے کے باہر موجود ہے۔
مظاہرین سے مذاکرات کے لیے ایس ایس پی ویسٹ طارق مستوئی سمیت پولیس کے اعلیٰ افسران تھانے پہنچے اور احتجاج ختم کرنے کی کوشش کی، تاہم مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔ مظاہرین بدستور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
گھر میں داخل ہوکر فائرنگ
واقعے کا مقدمہ مقتول کے والد کی مدعیت میں منگھوپیر تھانے میں درج کرلیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق کچھ مسلح ملزمان گھر میں داخل ہوئے، جن میں سے دو مبینہ طور پر پولیس کی وردیاں پہنے ہوئے تھے۔
مقتول کے والد نے اپنے بیان میں بتایا کہ گھر میں آہٹ کی آواز سن کر وہ باہر نکلے تو ملزمان نے فائرنگ کردی۔ فائرنگ کی آواز سن کر روشم بھی باہر آیا، جس پر ملزمان نے اس پر سیدھی فائرنگ کردی۔ گولی روشم کے سینے میں لگی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
حافظ قرآن اور میٹرک پوزیشن ہولڈر تھا
روشم کے والد کے مطابق ان کے 10 بچے ہیں، جن میں 8 بیٹیاں اور 2 بیٹے شامل ہیں۔ روشم اپنی آٹھ بہنوں کا سب سے بڑا بھائی تھا۔
اہل خانہ کے مطابق روشم حافظ قرآن تھا اور میٹرک کے امتحانات میں پوزیشن بھی حاصل کرچکا تھا۔
واقعے کے بعد اہل خانہ اور علاقہ مکینوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا ملنے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
Comments
0 comment