3 hours ago
انمول عرف پنکی کیس میں تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیاگیا
Webdesk
|
20 May 2026
کراچی: بدنام زمانہ خاتون منشیات فروش انمول عرف پنکی کیس میں تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے، جبکہ ملزمہ کو مبینہ طور پر پروٹوکول دینے اور منشیات کے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں ہونے والی انکوائری مکمل کرلی گئی ہے اور رپورٹ اعلی حکام کو ارسال کردی گئی ہے۔
انکوائری رپورٹ میںعلی حسن ایس پی پی انویسٹی گیشن سٹی سمیت 17 پولیس افسران اور اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ میں ضلعی ایس ایس پی، ایس ایچ او گارڈن اور ایس آئی او گارڈن کو واقعے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، جبکہ ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال کے خلاف محکمانہ و قانونی کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
انکوائری میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ پنکی کو تھانے لانے اور عدالت منتقل کرنے سے متعلق گارڈن تھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کردی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ملزمہ کی عدالت میں پیشی کے دوران پروٹوکول دینے سے پولیس کی ساکھ متاثر ہوئی، جبکہ گرفتاری کے بعد ملزمہ کا سی آر او بھی نہیں کرایا گیا۔
مزید یہ کہ آپریشن پولیس نے گرفتاری کے بعد انویسٹی گیشن پولیس کو بروقت آگاہ نہیں کیا۔دوسری جانب انمول عرف پنکی کے مبینہ منشیات نیٹ ورک سے متعلق نئی تفصیلات نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید متحرک کردیا ہے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق پنکی سے کوکین خریدنے والوں میں مختلف تعلیمی اداروں کے 16 سے 24 سال عمر کے طلبہ و طالبات بھی شامل ہیں، جو مبینہ طور پر گولڈ کوکین نامی مہنگی منشیات استعمال کرتے تھے۔
ذرائع نے بتایاکہ کراچی، لاہور اور اسلام آبادکے مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات منشیات خریدنے والوں میں شامل تھے۔
Comments
0 comment