2 hours ago
آئی فون کی وجہ سے نئے بچے پیدا نہیں ہورہے؟ حیرت انگیز انکشاف
Webdesk
|
9 Jun 2026
دنیا بھر میں شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی ایک ایسا رجحان ہے جس پر ماہرین برسوں سے تحقیق کر رہے ہیں اور اب اس بحث میں ایک نیا پہلو سامنے آیا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق اس تبدیلی کی ممکنہ وجوہات میں اب اسمارٹ فونز کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔
ماہرین طویل عرصے سے اس امکان پر غور کرتے آ رہے تھے کہ کہیں موبائل فونز اس کمی کے رجحان سے جڑے تو نہیں خاص طور پر اس لیے کہ امریکا میں شرحِ پیدائش میں واضح کمی کا آغاز 2007 میں ہوا تھا وہی سال جب اپیل نے اپنا پہلا آئی فون متعارف کروایا تاہم اس مفروضے کو پہلے کبھی مضبوط سائنسی ثبوت حاصل نہیں ہو سکے تھے۔
حال ہی میں سامنے آنے والی دو نئی تحقیقی رپورٹس پہلی بار اس سوال کو سائنسی بنیادوں پر پرکھنے کی کوشش کرتی ہیں کہ آیا اسمارٹ فون واقعی شرحِ پیدائش میں کمی کا باعث بنے یا نہیں۔
ان مطالعات کو گزشتہ بیس سال کے دوران امریکا اور دیگر ممالک میں سامنے آنے والی بڑی سماجی تبدیلی کو سمجھنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
اس سے پہلے مختلف عوامل جیسے مانع حمل ادویات کا استعمال، اسقاطِ حمل کی شرح میں تبدیلی، خواتین کی تعلیم میں اضافہ اور یہاں تک کہ ٹی وی پروگرام 16 and Pregnant کے اثرات پر بھی تحقیق کی جا چکی ہے. لیکن کوئی بھی عنصر مکمل طور پر اس رجحان کی وضاحت نہیں کر سکا۔
ماہرین کے مطابق اسمارٹ فونز اور شرحِ پیدائش کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت کرنا آسان نہیں کیونکہ انہی برسوں میں عالمی مالیاتی بحران سمیت کئی بڑے معاشی اور سماجی واقعات بھی پیش آئے جنہوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
سائنسی تحقیق میں سب سے معتبر طریقہ یہ ہوتا ہے کہ افراد کو اتفاقی طور پر مختلف گروپوں میں تقسیم کر کے نتائج کا موازنہ کیا جائے تاہم شرحِ پیدائش جیسے وسیع سماجی رجحانات میں یہ طریقہ عملی طور پر ممکن نہیں ہوتا۔
اسی چیلنج کے پیش نظر Caitlin Myers اور ان کے طالب علم Ezekiel Hooper نے تحقیق کے لیے آئی فون کی ابتدائی اور محدود دستیابی کو بنیاد بنایا۔ چونکہ پہلا آئی فون 2007 میں صرف اے ٹی اینڈ ٹی نیٹ ورک پر دستیاب تھا اس لیے انہوں نے ان امریکی علاقوں کا تقابل کیا جہاں اس نیٹ ورک کی رسائی زیادہ تھی اور ان علاقوں سے جہاں یہ کم یا نہ ہونے کے برابر تھی۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق 2007 سے 2011 کے درمیان شرحِ پیدائش میں جو کمی دیکھی گئی اس کا تقریبا نصف حصہ آئی فون کے پھیلا سے منسلک ہو سکتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں دیکھا گیا۔
محققین کا خیال ہے کہ اسمارٹ فونز کے بڑھتے استعمال کے بعد نوجوانوں نے آمنے سامنے ملاقاتوں کے بجائے آن لائن رابطوں کو ترجیح دینا شروع کر دی.جس کے نتیجے میں سماجی میل جول اور ذاتی تعلقات کے انداز میں تبدیلی آئی اور حمل کے امکانات بھی کم ہوئے۔
ایک اور امکان یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اسمارٹ فونز کے ذریعے فحش مواد تک رسائی آسان ہو گئی جس کے باعث کچھ نوجوانوں نے حقیقی تعلقات کے بجائے آن لائن مواد کو ترجیح دی۔ اسی طرح انہی آلات نے مانع حمل طریقوں اور حمل سے بچا سے متعلق معلومات تک رسائی بھی پہلے سے زیادہ آسان بنا دی۔
تحقیق میں شامل نہ ہونے والے ماہرین نے ان نتائج کو قابلِ غور قرار دیا ہے۔ Phillip B. Levine کے مطابق یہ اعداد و شمار ایک بڑے سماجی رجحان کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں. تاہم نتائج پر کچھ عوامل اثر انداز ہو سکتے ہیں، جیسے یہ امکان کہ AT&T کی خدمات پہلے زیادہ آبادی والے یا خوشحال علاقوں میں دستیاب ہوئیں۔
ان کے مطابق محققین نے ان ممکنہ فرقوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے اور نتائج مجموعی طور پر منطقی دکھائی دیتے ہیں لیکن صرف آئی فون کو مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں ہوگا بلکہ اسے وسیع سماجی تبدیلیوں کے ایک جزو کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
آج شرحِ پیدائش میں کمی صرف ترقی یافتہ ممالک تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ رجحان دنیا کے تقریبا تمام خطوں میں دیکھا جا رہا ہے اسی لیے ماہرین مشترکہ عالمی عوامل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری تحقیق کے مصنفین Hernan Moscoso Boedo اور Nathan Hudson نے 128 ممالک کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا۔ ان کے مطابق مختلف معاشی نظاموں، صحت کے ڈھانچوں، مذہبی روایات اور قوانین کے باوجود کئی ممالک میں ایک ہی وقت میں شرحِ پیدائش میں کمی دیکھی گئی جو کسی عالمی سطح کے اثر کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
Comments
0 comment