عثمان خواجہ کا ریٹائرمنٹ کا اعلان، پریس کانفرنس میں اسلامی فوبیا اور نسلی تعصب کو بے نقاب کردیا

عثمان خواجہ کا ریٹائرمنٹ کا اعلان، پریس کانفرنس میں اسلامی فوبیا اور نسلی تعصب کو بے نقاب کردیا

میں اپنے فیصلے سے مطمئن ہوں اور اسے اپنے کیریئر کا قدرتی اختتام سمجھ رہا ہوں، عثمان خواجہ
عثمان خواجہ کا ریٹائرمنٹ کا اعلان، پریس کانفرنس میں اسلامی فوبیا اور نسلی تعصب کو بے نقاب کردیا

Webdesk

|

2 Jan 2026

آسٹریلیا کے معروف اوپنر عثمان خواجہ نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انگلینڈ کے خلاف ایشیز سیریز کے پانچویں اور آخری ٹیسٹ میچ کے بعد بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہو جائیں گے۔

39 سالہ عثمان خواجہ نے کہا کہ وہ اپنے فیصلے سے مطمئن ہیں اور اسے اپنے کیریئر کا قدرتی اختتام سمجھتے ہیں۔

عثمان کو اگر اسکواڈ میں شامل کیا گیا تو وہ اتوار سے سڈنی میں شروع ہونے والے ٹیسٹ میچ میں آخری بار آسٹریلوی جرسی میں میدان میں اتریں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے 2011 میں بھی اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز اسی میدان پر انگلینڈ کے خلاف کیا تھا، اور اب وہیں اپنے سفر کا اختتام کریں گے۔ یہ ان کے کیریئر کا 88واں ٹیسٹ ہوگا۔

ریٹائرمنٹ کے اعلان پر بات کرتے ہوئے عثمان خواجہ نے کہا کہ وہ شکر گزار ہیں کہ انہیں اتنے طویل عرصے تک آسٹریلیا کی نمائندگی کا موقع ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی کہانی دوسروں کے لیے حوصلہ اور امید بنے۔

عثمان خواجہ نے اپنے کیریئر کے دوران نسل پرستی، اسلامو فوبیا کے رویوں پر کھل کر بات بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسلمان اور پاکستان میں پیدا ہونے والے کھلاڑی کے طور پر انہیں کئی بار تعصب اور منفی رجحانات کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کے مطابق، ایک انجری کے دوران میڈیا اور سابق کھلاڑیوں کی جانب سے ان پر لگائے گئے الزامات نے انہیں مایوس کیا، جن میں سستی اور کمٹمنٹ کی کمی جیسے الفاظ استعمال کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے الزامات دراصل وہی نسلی تعصبات ہیں جن کے بارے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ اب وہ ختم ہو چکے ہیں، مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

عثمان خواجہ بچپن میں اسلام آباد سے آسٹریلیا منتقل ہوئے تھے اور مشکلات کے باوجود انہوں نے خود کو منوایا۔ وہ آسٹریلیا کی ٹیسٹ تاریخ کے پہلے مسلمان اور پاکستان میں پیدا ہونے والے کھلاڑی ہیں۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب وہ ملک میں واحد ایشیائی فرسٹ کلاس کرکٹر تھے، اور آج انہیں نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک رول ماڈل سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ موجودہ ایشیز سیریز کے دوران ہی انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ آگے بڑھیں، خاص طور پر اس وقت جب انہیں ایک میچ میں ابتدائی طور پر ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔

عثمان خواجہ نے ٹیسٹ کرکٹ کے علاوہ آسٹریلیا کی جانب سے 40 ایک روزہ اور 9 ٹی ٹوئنٹی میچز بھی کھیلے۔ ان کا کیریئر جدوجہد، حوصلے اور کامیابی کی ایک متاثر کن مثال ہے۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!