پاکستانی مرد و خواتین ٹریکرز نے چترال میں (5050 میٹر) بلند چوٹی کامیابی سے عبور کرلی
Webdesk
|
21 Jul 2026
پشاور: خیبرپختونخوا حکومت کے زیراہتمام پہلی مرتبہ پھاگرام پاس اپر چترال تا گولین لوئر چترال (5050 میٹر) بلند چوٹی کو پاکستانی مرد و خواتین ٹریکرز نے کامیابی سے عبور کرتے ہوئے ٹریکنگ مکمل کرلی۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے سیاحت ملک عدیل اقبال کی ہدایات پر پھاگرام پاس اپر چترال تا گولین لوئر چترال (5050 میٹر) بلند ٹریک کو کامیابی سے عبور کرلیا۔
اس ٹریکنگ کے دوران ملک بھر سے پاکستانی مرد و خواتین ٹریکرز شامل تھے جنہوں نے کامیابی کیساتھ ٹریک کو پہلی مرتبہ عبور کیا۔ یہ اعزاز حاصل کرنے والی یہ پہلی پاکستانی ٹیم ہے جبکہ اس مہم کے دوران پہلی مرتبہ مردوں کیساتھ ساتھ خواتین نے بھی اس دشوار گزار تاریخی پہاڑی درے کی چوٹی سر کرکے ایک اہم سنگ میل عبور کیا۔
اپر چترال کے دلکش پہاڑوں میں واقع پھاگرام پاس پاکستان کے کم دریافت شدہ اور انتہائی دشوار گزار بلند ترین پہاڑی راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ جو اپر چترال کی وادی لاسپور کو لوئر چترال کی خوبصورت وادی گولین سے ملاتا ہے۔
یہ راستہ برفانی گلیشیئرز، کھڑی برفیلی ڈھلوانوں، غیر مستحکم پتھریلے راستوں، برفانی تودوں کے خطرات اور دشوار گزار گھاٹیوں سے گزرتا ہے۔
مہم کے شرکاء نے بیس کیمپ سے چوٹی تک تقریبا ایک ہزار میٹر بلند چڑھائی اور اس کے بعد ایک ہزار ایک سو میٹر دشوار گزار اترائی مکمل کی۔
مہم کے دوران ٹیم نے آسٹریا کے کوہ پیماء جارج کروم برگر (Georg Kronberger) کی یادگار تختی بھی دوبارہ دریافت کی۔ جو 31 جولائی 1975 کو انہی پہاڑوں میں جان کی بازی ہار گئے تھے۔ اس یادگار کی دوبارہ دریافت ہندوکش میں ابتدائی کوہ پیمائوں کی قربانی اور ان تاریخی راستوں اہمیت کی یاد دلاتی ہے۔
چوٹی سر کرنے والی ٹیم میں کامران خان (سب سے پہلے چوٹی پر پہنچنے والے)، مہروش اختر، ثمر خان، نعمان خان، نورالرحمان، ذوہیب خان، عمر خطاب شیرانی، سونیا بابر، آمنہ شبیر اور مدیحہ سید شامل تھے۔
Comments
0 comment