عرب اور اسلامی ممالک کی خاموشی حرام، اسرائیل کیخلاف جہاد فرض، علما کا مشترکہ فتویٰ

عرب اور اسلامی ممالک کی خاموشی حرام، اسرائیل کیخلاف جہاد فرض، علما کا مشترکہ فتویٰ

فتوے میں اسرائیل کے مکمل بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا ہے
عرب اور اسلامی ممالک کی خاموشی حرام، اسرائیل کیخلاف جہاد فرض، علما کا مشترکہ فتویٰ

ویب ڈیسک

|

5 Apr 2025

انٹرنیشنل علماء کا اسرائیل کے خلاف جہاد کا اعلان، غزہ قتلِ عام کے خلاف مشترکہ تاریخی فتویٰ جاری

بین الاقوامی اتحاد مسلم علماء (IUMS) نے غزہ میں فلسطینیوں کے جاری قتلِ عام کے تناظر میں اسرائیل کے خلاف کھلے جہاد کا تاریخی فتویٰ جاری کیا ہے۔

 دنیا کے معروف ترین مذہبی رہنما اور تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر علی القره داغی کی قیادت میں مسلم ممالک اور افراد کو اسرائیل کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے اور فلسطینیوں کو فوجی، معاشی اور سیاسی حمایت فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا۔  

یو آئی ایم ایس، جس کی پہلے مفتی یوسف القرضاوی قیادت کرتے تھے، نے جمعے کے روز 15 نکاتی بیان جاری کیا۔

اہم نکات

فلسطینیوں کی حمایت نہ کرنا اور غزہ کی بربادی پر خاموش رہنا حرام

اسرائیل کافر اور دشمن قرار

اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کی لین دین حرام ہے

اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنا حرام ہے

زمینی، سمندی یا فضائی حدود کے استعمال کی اجازت بھی حرام ہے

اسلامی ممالک اسرائیل سے تمام معاہدے، سفارتی تعلقات ختم کریں 

جس میں علی القره داغی نے کہا، عرب و اسلامی حکومتوں کا غزہ کی تباہی کے دوران اس کی حمایت نہ کرنا شرعی اعتبار سے ایک بڑا جرم ہے۔

14 دیگر علماء کے حمایت یافتہ اس فتویٰ میں اسرائیل کو "کافر دشمن" قرار دیتے ہوئے تمام قسم کی امداد بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ 

القره داغی نے زور دے کر کہا، اسرائیل کو ہتھیار فروخت کرنا یا سوئز کینال، باب المندب، آبنائے ہرمز یا کسی بھی زمینی، بحری یا ہوائی ذریعے سے اس کی نقل و حمل میں مدد کرنا حرام ہے۔

اتحاد نے اسرائیل پر ہوائی، زمینی اور بحری مکمل محاصرے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ غزہ اور مقبوضہ فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ حقیقی یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔ 

بیان میں مسلم ممالک سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تمام سفارتی اور دوطرفہ تعلقات، بشمول معاہدے، منقطع کریں۔ 

اسرائیل نے گزشتہ دسمبر تک غزہ پر وحشیانہ حملے جاری رکھے، جنوری میں ایک نازک جنگ بندی عمل میں آئی، لیکن 18 مارچ کو اسرائیل نے اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوبارہ قتل و غارت شروع کر دی۔

 اسرائیلی فوج نے ہزاروں فلسطینیوں کو بے گھر کر دیا ہے، جو پیدل پناہ گاہوں سے نکلنے پر مجبور ہیں۔ بچے اور بوڑھے لمبے فاصلے تک پیدل چلنے کی صعوبت برداشت کر رہے ہیں۔  

18 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 1,250 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 50,523 سے زیادہ فلسطینی شہید اور 114,638 زخمی ہو چکے ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی جارحیت میں زیادہ تر شہدا خواتین اور بچے ہیں۔  

مسلم علماء کے اس فتویٰ کو دنیا بھر کے مسلمانوں میں زبردست حمایت مل رہی ہے، جبکہ اسرائیل کے حامی ممالک پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!