حج و عمرہ ایکٹ 2024 نظام میں بڑی اصلاحات، نئے عمرہ رولز نافذ

حج و عمرہ ایکٹ 2024 نظام میں بڑی اصلاحات، نئے عمرہ رولز نافذ

کمیٹی تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد عمرہ پالیسی مرتب کرے گی
حج و عمرہ ایکٹ 2024 نظام میں بڑی اصلاحات، نئے عمرہ رولز نافذ

Webdesk

|

16 Jul 2026

 مدینہ منورہ: وفاقی حکومت نے حج و عمرہ ایکٹ 2024 کے تحت ملک میں عمرہ انتظامات کو مزید شفاف، منظم اور مثر بنانے کے لیے نئے عمرہ رولز کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ وفاقی کابینہ کی منظوری سے نافذ ہونے والے ان قواعد کے مطابق آئندہ عمرہ سے متعلق تمام انتظامی، ریگولیٹری اور نگرانی کے امور وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے دائرہ اختیار میں ہوں گے۔

وزارتِ مذہبی امور کے مطابق نئی عمرہ پالیسی کی تیاری کے لیے عمرہ پالیسی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری مذہبی امور کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے، جبکہ وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ، وزارتِ قانون و انصاف اور کابینہ ڈویژن کے اعلی افسران اس کے ارکان ہوں گے۔

 کمیٹی تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد عمرہ پالیسی مرتب کرے گی، جسے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد نافذ کیا جائے گا۔

وزارت نے تمام عمرہ کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ وزارت کی ویب سائٹ پر جاری کردہ طریقہ کار کے مطابق اپنے نسک (Nusuk) معاہدوں کی فوری تصدیق مکمل کریں تاکہ انہیں مستند عمرہ آپریٹرز کی فہرست میں شامل کیا جا سکے۔ تصدیق شدہ کمپنیوں کی فہرست وزارت کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی جاری کی جائے گی۔

وزارتِ مذہبی امور نے عمرہ زائرین کو ہدایت کی ہے کہ وہ صرف وزارت سے تصدیق شدہ عمرہ آپریٹرز کے ذریعے ہی اپنی بکنگ کروائیں۔

 غیر رجسٹرڈ یا غیر مصدقہ کمپنیوں کے ذریعے بکنگ کی صورت میں پیدا ہونے والے مسائل کی ذمہ داری متعلقہ افراد پر ہو گی، جبکہ وزارت صرف انہی کمپنیوں کے خلاف شکایات کا ازالہ کرے گی جو باقاعدہ رجسٹرڈ اور تصدیق شدہ ہوں گی۔

زائرین کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ عمرہ پیکیج کی ادائیگی ہمیشہ بینکنگ چینل کے ذریعے کریں اور ادائیگی کی رسید، معاہدہ اور دیگر متعلقہ دستاویزات محفوظ رکھیں تاکہ کسی بھی تنازع یا شکایت کی صورت میں ان کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

حکام کے مطابق نئے عمرہ رولز کا بنیادی مقصد عمرہ شعبے میں شفافیت، جوابدہی اور مثر نگرانی کو فروغ دینا، غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈ آپریٹرز کی حوصلہ شکنی کرنا اور عمرہ زائرین کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنانا ہے۔

 نئی عمرہ پالیسی کے نفاذ کے بعد صرف وزارتِ مذہبی امور سے تصدیق شدہ کمپنیاں ہی عمرہ خدمات فراہم کرنے کی مجاز ہوں گی، جس سے عمرہ انتظامات مزید منظم ہوں گے اور عوام کا اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!